59

والد کی جان بچانے کے لیے جگر عطیہ کرنے والی بیٹی اور پھر باپ کی موت: ایک دردناک المیہ

شجاع آباد(ایچ آراین ڈبلیو) بی ایس کی 20 سالہ طالبہ مقدس نے والد کی زندگی بچانے کے لیے اپنے جگر کا 60 فیصد حصہ عطیہ کیا، لیکن پیوندکاری کے محض چند دن بعد ہی انتقال کر گئیں۔ ان کے والد خلیل احمد بھی بیٹی کی جدائی کا صدمہ برداشت نہ کر سکے اور چھ ماہ بعد دنیا سے رخصت ہو گئے۔

مقدس نے ڈاکٹروں کے مشورے کے باوجود اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر والد کے لیے جگر عطیہ کیا تھا۔ تاہم، دونوں کی یکے بعد دیگرے موت نے خاندان کو سخت صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ مقدس جیسی بہادر بیٹیاں معاشرے کے لیے قابل فخر ہوتی ہیں۔ راؤ خلیل کے جنازے میں مقامی افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے باپ اور بیٹی کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔ یہ واقعہ والد بیٹی کے گہرے رشتے کی عکاسی کرتا ہے جس نے موت کے سامنے بھی ایک دوسرے کی جان بچانے کی کوشش کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں