اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) وفاقی وزیر برائے خوراک سیکیورٹی رانا تنویر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران اگلے سال ڈیڑھ ارب ڈالر کی گندم درآمد کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نئی گندم پالیسی کا اعلان کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا، “حالات کے پیش نظر ہم اندازہ لگا رہے ہیں کہ اس سال گندم کی کاشت 50 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ ہم عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے اس معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ گندم کی سپورٹ پرائز رکھنے کی تجویز بھی زیرغور ہے۔”
چینی کے حوالے سے سوالات کے جواب میں رانا تنویر نے کہا، “ہم 15 کروڑ ڈالر کی چینی درآمد کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس سال گنے کی بumperر کراپ تھی، لیکن سیلاب کے اثرات اور مافیا کی کارستانیوں کے باعث چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔”
وزیر نے زور دیا کہ حکومت اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گندم کی ممکنہ درآمد ملک میں خوراک کی سلامتی کو یقینی بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔


