ملتان(ایچ آراین ڈبلیو) عدالت نے پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں سات سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو سیشن عدالت ملتان نے جعلی ڈگری کیس میں 7 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
جمشید دستی جو 2024 کے عام انتخابات میں مظفر گڑھ رنگپور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 175 سے منتخب ہوئے تھے۔ تاہم رواں برس جولائی میں جعلی ڈگری کیس میں الیکشن کمیشن نے انہیں نا اہل قرار دے دیا تھا۔
الیکشن کمیشن میں جمشید دستی کے خلاف امیر اکبر کی جانب سے درخواست جمع کرائی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن میں درخواست کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار امیر اکبر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جمشید دستی نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں اثاثے چھپائے اور جھوٹی تعلیمی تفصیلات درج کیں۔ دستی نے کاغذاتِ نامزدگی میں ایف اے لکھا جبکہ وہ تو میٹرک پاس بھی نہیں ہیں۔
الیکشن کمیشن نے جمشید دستی کو نا اہل قرار دیے جانے کے بعد مذکورہ حلقہ میں ضمنی الیکشن کے شیڈول کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق 10 ستمبر کو پولنگ ہونی تھی۔
دوسری جانب جمشید دستی نے اپنی نا اہلی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی جس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے ضمنی الیکشن کا شیڈول معطل کر دیا تھا۔


