یروشلم(ایچ آراین ڈبلیو)اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹریچ نے ایک متنازع بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا غزہ کو “منافع بخش رئیل اسٹیٹ منصوبے” میں تبدیل کرنے کے منصوبوں پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق، دونوں ممالک نے جنگ پر کثیر رقم خرچ کی ہے اور اب غزہ کی زمین فروخت کر کے اسی شرح سے منافع تقسیم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ “انفرااسٹرکچر کی موجودہ تباہی درحقیقت شہر کی تجدید کا پہلا مرحلہ ہے، اور اب تعمیر نو کا آغاز ہونا چاہیے۔”
اسموٹریچ نے دعویٰ کیا کہ غزہ کی تقسیم کا یہ بزنس منصوبہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میز پر موجود ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی تجویز دے چکے ہیں کہ غزہ سے انخلاء کے بعد وہاں امریکا کی زیر ملکیت ایک ساحلی تفریح گاہ بنائی جائے۔
یہ بیانات بین الاقوامی برادری میں شدید مذمت کا سبب بن رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب غزہ میں انسانیت سوز بحران جاری ہے اور ہزاروں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ تجزیہ کار اسے علاقائی استعماریت کی ایک نئی شکل قرار دے رہے ہیں۔


