60

پاکستان میں تاریخی قدم: 90 لاکھ بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی مفت ویکسین

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں 15 سے 27 ستمبر تک ایچ پی وی ویکسین کی قومی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے تحت 9 سے 14 سال کی 90 لاکھ سے زائد بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی مفت ویکسین لگائی جائے گی۔ یہ مہم وفاقی وزارت صحت کے تعاون سے پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور کشمیر میں شروع کی گئی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اکتوبر میں دوسرے مرحلے میں آغاز ہوگا .

سروائیکل کینسر: پاکستان میں صورت حال
روزانہ 14 نئی کیسز: پاکستان میں روزانہ 14 خواتین میں سروائیکل کینسر کی تشخیص ہوتی ہے، جن میں سے 70% کی موت اس بیماری کی وجہ سے ہو جاتی ہے۔

سالانہ اموات: ہر سال 5,002 خواتین میں سروائیکل کینسر کی تشخیص ہوتی ہے، جن میں سے 3,200 خواتین اس بیماری سے جاں بحق ہو جاتی ہیں .

تیسرا بڑا کینسر: سروائیکل کینسر پاکستانی خواتین میں پایا جانے والا تیسرا سب سے عام کینسر ہے، جو زیادہ تر 50 سال سے زائد عمر کی خواتین کو متاثر کرتا ہے .

ایچ پی وی ویکسین: عالمی سطح پر قبولیت
144 ممالک میں استعمال: ایچ پی وی ویکسین سعودی عرب، قطر، امریکا، یورپ سمیت 144 ممالک میں استعمال ہو رہی ہے، جہاں اسے سروائیکل کینسر سے بچاؤ کا محفوظ اور مؤثر ذریعہ مانا جاتا ہے .

عالمی ہدف: عالمی ادارہ صحت کا ہدف 2030 تک دنیا کی 90% بچیوں کو ایچ پی وی ویکسین کے ذریعے سروائیکل کینسر سے محفوظ بنانا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے .

ویکسین مہم: تفصیلات اور عمل درآمد
مفت ویکسینیشن: حکومت پاکستان کی جانب سے یہ ویکسین مفت لگائی جا رہی ہے، جس کے لیے اسکولوں، بنیادی صحت مراکز اور مخصوص ویکسین مراکز قائم کیے گئے ہیں .

ہدف عمر: 9 سے 14 سال کی بچیوں کو اس ویکسین کے لیے منتخب کیا گیا ہے، کیونکہ اس عمر میں ویکسین سب سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے اور مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے .

ڈوزز: عام بچیوں کے لیے ایک یا دو ڈوز کافی ہیں، جبکہ قوت مدافعت کی کمی والی بچیوں کو تین ڈوز دی جا سکتی ہیں .

مہم کے مراحل
مرحلہ علاقہ تاریخ ہدف
پہلا مرحلہ پنجاب، سندھ، اسلام آباد، کشمیر 15-27 ستمبر 1 کروڑ 30 لاکھ بچیاں
دوسرا مرحلہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اکتوبر 50 لاکھ بچیاں
اعداد و شمار: وفاقی وزارت صحت

سروائیکل کینسر: وجوہات اور علامات
ایچ پی وی وائرس: 70% سے زائد کیسز میں ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) سروائیکل کینسر کی بنیادی وجہ ہے، جو جنسی طور پر منتقل ہونے والا انفیکشن ہے .

علامات:

دو ماہواریوں کے درمیان خون آنا

زرد رنگ کے پیپ کا اخراج

پیشاب میں مسائل

واژنا سے خون یا رطوبتوں کا اخراج .

اسکریننگ: پیپ سمیئر ٹیسٹ کے ذریعے اس کی ابتدائی اسٹیج میں ہی تشخیص ممکن ہے، جو زیادہ تر شہروں اور دیہی علاقوں میں دستیاب ہے .

عوامی آگاہی اور سماجی رکاوٹیں
آگاہی کا فقدان: پاکستان میں سروائیکل کینسر کے حوالے سے آگاہی کا شدید فقدان ہے، جہاں خواتین اسے ماہواری کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں .

سماجی رکاوٹیں: جنسی صحت کے حوالے سے بات کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے خواتین بروقت تشخیص اور علاج سے محروم رہ جاتی ہیں .

مثالی کہانی: نادیہ افضال (فرضی نام) نامی خاتون نے بتایا کہ جب ان میں سروائیکل کینسر کی تشخیص ہوئی، تو انہیں خاندان میں بدنامی کا خدشہ تھا، لیکن ان کی بیٹی نے انہیں علاج کے لیے راضی کیا .

عالمی تعاون اور حکومتی کوششیں
بین الاقوامی تعاون: یونیسف، گاوی، گلوبل الائنس اور ڈبلیو ایچ او سمیت بین الاقوامی ادارے اس مہم میں حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں .

سندھ میں مہم: سندھ میں 2022 میں پہلی بار ایچ پی وی ویکسینیشن کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن عوامی ردعمل کے باعث اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔ اب تین سال بعد دوبارہ اس مہم کا آغاز کیا گیا ہے .

میئر کراچی کا پیغام
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت کی اس مہم میں بھرپور ساتھ دیں اور اپنی بچیوں کو سروائیکل کینسر جیسی جان لیوا بیماری سے بچانے کے لیے انہیں ویکسین ضرور لگوائیں۔ انہوں نے کہا کہ “مستقبل میں بچیوں کو صحت کے حوالے سے کوئی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے”۔

نتیجہ اور سفارشات
ایچ پی وی ویکسین پاکستان میں خواتین کی صحت کے حوالے سے ایک انقلابی قدم ہے، جو لاکھوں خواتین کو سروائیکل کینسر سے بچا سکتا ہے۔ عوام سے درخواست ہے کہ وہ توہمات اور سماجی رکاوٹوں سے بالاتر ہو کر اپنی بچیوں کو ویکسین لگوائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی آگاہی مہم چلائے اور دیہی علاقوں میں اس مہم کو مزید مؤثر بنائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں