75

کورنگی میں غیرت کے نام پر قتل: شوہر اور ساتھی گرفتار، عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)عوامی کالونی کورنگی انڈسٹریل ایریا میں غیرت کے نام پر اپنی اہلیہ کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار شوہر غلام قمبر لغاری اور اس کے ساتھی منٹھار کو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو 20 ستمبر تک کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزمان کے خلاف یہ مقدمہ 16 ستمبر کو عوامی کالونی تھانے میں درج کیا گیا تھا .

واقعے کی تفصیلات
قاتلانہ حملہ: ملزم غلام قمبر لغاری نے اپنی 40 سالہ اہلیہ زینت بی بی کو تیز دھار آلے (چھری) کے وار کر کے قتل کیا۔ مقتولہ کے جسم پر متعدد وار کیے گئے، خاص طور پر گردن اور دیگر حساس حصوں پر .

ملزمان کی گرفتاری: پولیس نے واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے قتل میں ملوث شوہر غلام قمبر اور اس کے حقیقی بھائی مٹھا خان جمالی (منٹھار) کو گرفتار کیا۔ دونوں کو عدالت میں پیش کر دیا گیا .

فرار ملزمان: تفتیشی افسر کے مطابق، ملزم کے دو دیگر ساتھی ابھی تک فرار ہیں، جنہیں گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ نیز، آلہ قتل (چھری) ابھی تک برآمد نہیں ہو سکا، جسے ملزمان نے جھاڑیوں میں پھینک دیا تھا .

عدالتی کارروائی اور تفتیش
جسمانی ریمانڈ: عدالت نے ملزمان کو 20 ستمبر تک کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے، تاکہ پولیس مزید تفتیش کر سکے اور فرار ملزمان کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ آلہ قتل برآمد کر سکے .

مقدمہ درج: ملزمان کے خلاف مقدمہ 16 ستمبر کو عوامی کالونی تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، مقتولہ کی دوسری شادی تھی اور اس کے پہلے شوہر سے تین بچے تھے .

غیرت کے نام پر قتل: ایک سنگین سماجی مسئلہ
ملک بھر میں تشویشناک رحجان: غیرت کے نام پر قتل کے واقعات پاکستان میں ایک سنگین سماجی مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف سندھ میں 123 افراد (91 خواتین اور 32 مرد) غیرت کے نام پر قتل کیے گئے .

شہری علاقوں میں اضافہ: غیرت کے نام پر قتل کے واقعات اب دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں .

قانونی خامیاں: غیرت کے نام پر قتل کے ملزمان اکثر سزاؤں سے بچ جاتے ہیں، کیونکہ خاندان کے دیگر افراد انہیں معاف کر دیتے ہیں یا قانون میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں .

پولیس کی کارروائی اور عوامی ردعمل
فوری اقدام: واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور کرائم سین یونٹ کو طلب کیا۔ مقتولہ کی لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا .

عوامی احتجاج: غیرت کے نام پر قتل کے خلاف عوامی ورکرز پارٹی سمیت مختلف سماجی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں .

غیرت کے نام پر قتل کے اعداد و شمار (2023)
صوبہ خواتین مرد کل
سندھ 91 32 123
پنجاب 145 70 215
خیبر پختونخوا 201 – 201
بلوچستان 75 – 75
اعداد و شمار: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور سندھ سوہائی آرگنائزیشن

سماجی تبدیلی کے لیے سفارشات
قانونی اصلاحات: غیرت کے نام پر قتل کے خلاف موجودہ قوانین کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور انہیں مزید سخت اور مؤثر بنایا جائے .

عوامی آگاہی: عوام میں اس مسئلے کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے، خاص طور پر نوجوان نسل کو تعلیم دی جائے .

پولیس تربیت: پولیس اہلکاروں کو ایسے مقدمات کی حساسیت سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت دی جائے .

متاثرین کی حمایت: متاثرہ خواتین کے لیے تحفظ اور قانونی مدد کے نظام کو مضبوط بنایا جائے .

نتیجہ
غیرت کے نام پر قتل کا یہ واقعہ ایک بار پھر اس سنگین سماجی مسئلے کی طرف توجہ دلاتا ہے جس کا سامنا پاکستان جیسے معاشروں میں عوام کو ہے۔ عدالت اور پولیس کی کارروائی سے امید ہے کہ ملزمان کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ تاہم، اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے معاشرتی سوچ میں تبدیلی اور قانونی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں