اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور صوبائی ڈرگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹس نے ملک بھر میں جعلی ادویات کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 10 مختلف جعلی ادویات برآمد کی ہیں، جن میں بخار، جسم درد، بیکٹیریل انفیکشن، السر اور انزائٹی کی علاج کی ادویات شامل ہیں۔ ڈریپ نے عوام اور صحت کے پیشہ ور افراد کو خبردار کرنے کے لیے فوری الرٹ جاری کیا ہے .
ضبط شدہ جعلی ادویات کی فہرست:
ڈریپ کے مطابق درج ذیل ادویات کے مخصوص بیچز جعلی قرار دیے گئے ہیں:
ایزومیکس 500 ایم جی ٹیبلٹ (بیچ C1699) – نمونیہ، گلے اور جلد کے انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال
کلیریسڈ 500 ایم جی ٹیبلٹ (بیچ 722269XV) – نمونیہ، پھیپڑوں اور گلے کے انفیکشن کی دوا
ڈائیٹرون ٹیبلٹ (بیچ DIT) – جسم سے اضافی پانی کے اخراج کی دوا
لیونٹوس ٹیبلٹ 375 ایم جی (بیچ LF2) – بیکٹیریل انفیکشن کی دوا
لیونٹوس ٹیبلٹ 625 ایم جی (بیچ LF2, LF4) – بیکٹیریل انفیکشن کی دوا
سلفیرا سسپنشن 1 گرام (بیچ SL6) – آنتوں کے السر کی دوا
فیورن نیزل اسپرے 50 ایم سی جی (بیچ NF4) – الرجی کی دوا
ڈروکسیل کیپسول 500 ایم جی (بیچ RC5) – بیکٹیریل انفیکشن کی دوا
برومز ٹیبلٹ 3 ایم جی (بیچ 0007) – انزائٹی کے علاج کی دوا
جعلی ادویات کے خطرات:
ڈریپ نے واضح کیا ہے کہ یہ جعلی ادویات غیر معیاری خام مال سے تیار کی گئی ہیں اور ان کا معیار و افادیت غیر واضح ہے۔ ان ادویات کا استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ :
ان میں موجود اجزاء مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں
یہ ادویات بیماریوں کے خلاف مؤثر علاج فراہم نہیں کرتیں
ان کے مضر اثرات ہو سکتے ہیں
کارروائی کی تفصیلات:
صوبائی ڈرگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹس نے مختلف مارکیٹوں میں چھاپے مار کر یہ جعلی ادویات برآمد کی ہیں۔ یہ ادویات نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیز کے برانڈز کے ناموں پر تیار کی گئی تھیں، جن کے لیبلز پر کراچی اور قصور کی کمپنیوں کے پتے درج تھے .
قانونی حیثیت:
ڈریپ کے مطابق یہ ادویات ڈرگ ایکٹ 1976 کے سیکشن 3 کے تحت جعلی قرار پائی ہیں۔ یہ ادویات غیر قانونی فیکٹریوں میں تیار کی گئی تھیں اور مارکیٹ میں غیرقانونی طور پر سپلائی کی گئی تھیں .
عالمی تناظر:
یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں جعلی ادویات کے خلاف جنگ تیز ہوئی ہے۔ انٹرپول کی حالیہ کارروائی آپریشن لائن فش-مایا III میں 76 ٹن منشیات برآمد کی گئی تھیں، جو اس بات کی عکاس ہے کہ عالمی سطح پر غیرقانونی دواوں کا کاروبار کس طرح پھیلا ہوا ہے .
صحت کے شعبے کے لیے خطرہ:
جعلی ادویات نہ صرف عوام کی صحت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ صحت کے نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ ڈریپ نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ مارکیٹ میں ایسی جعلی ادویات کی موجودگی کی فوری اطلاع دیں .
حکام کی ہدایات:
صوبائی ڈرگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹس اور ریگولیٹری فورسز کو عوامی صحت کے تحفظ کے لیے نگرانی اور نفاذ کے اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈریپ نے صوبائی صحت کے محکموں کی درخواستوں پر عمل کرتے ہوئے عوام اور صحت کے پیشہ ور افراد کو خبردار کرنے کے لیے فوری الرٹس جاری کیے ہیں .
رپورٹنگ کا طریقہ کار:
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر انہیں بازار میں ایسی جعلی ادویات نظر آئیں تو وہ فوری طور پر:
مقامی ڈرگ کنٹرول اتھارٹی کو اطلاع دیں
ڈریپ کے ہیلپ لائن نمبر پر رابطہ کریں
قریبی پولیس اسٹیشن کو معلومات فراہم کریں
مستقبل کے اقدامات:
ڈریپ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جعلی ادویات کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گی اور ملک بھر میں نگرانی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنائے گی۔ عوام سے گزارش ہے کہ وہ صرف لائسنس یافتہ دواخانوں سے ادویات خریدیں اور کسی بھی مشکوک دوا کی فوری رپورٹ کریں


