61

عمران خان کا چیف جسٹس کو خط: ’انصاف کے دروازے بند اور میرا کمرا پنجرہ بنادیا گیا ہے

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو ایک اور خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے اپنے اور اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف “انصاف کے دروازے بند” ہونے کا شدید احتجاج کیا ہے۔ یہ خط ان کی بھتیجی علیمہ خان نے سپریم کورٹ کے آر آئی اینڈ آئی برانچ میں جمع کرایا ۔

خط کے اہم نکات:
تنہائی کی قید: عمران خان نے دعویٰ کیا کہ وہ 772 دنوں سے تنہائی کی قید میں ہیں، ان کا کمرہ 9×11 کا پنجرہ بنا دیا گیا ہے، اور ان کے خلاف 300 سے زائد سیاسی مقدمات قائم کیے گئے ہیں، جو پاکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال ہے ۔

بشریٰ بی بی کی صحت: خط میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی کی صحت بگڑ رہی ہے، لیکن انہیں ڈاکٹر سے معائنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔

خاندانی رابطوں میں رکاوٹ: عمران خان نے کہا کہ انہوں نے 4 ماہ میں صرف 2 بار اپنے بیٹوں سے فون پر بات کی ہے، اور انہیں بشریٰ بی بی سے ملاقات یا اخبارات تک رسائی کی اجازت نہیں دی گئی ۔

عدالتی کارروائی:
دوسری جانب، اسلام آباد ہائیکورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کیس لگانے کی استدعا کی ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سزا معطلی کے کیس کو 25 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

خط کی تفصیلات:
عمران خان کا یہ خط 9 صفحات پر مشتمل ہے، جس کا عنوان “آئین کی حالت اور پاکستان میں قانون کا نفاذ” ہے۔ خط میں انہوں نے اپنے اوپر 200 سے زائد کیسز کا حوالہ دیا ہے، اور خود کو اور اپنی اہلیہ کو قید میں رکھنا سیاسی و انتقامی کارروائی قرار دیا ہے ۔

قومی مسائل پر توجہ:
خط میں عمران خان نے چیف جسٹس کی توجہ ملک کے 7 اہم مسائل کی طرف مبذول کرائی ہے، جن میں نیب کی جانب سے نواز شریف کو بری کرنا، بہاولنگر واقعہ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کا خط، 9 مئی کے واقعات، کمشنر راولپنڈی کا بیان، انتخابات میں دھاندلی، اور مخصوص نشستوں کی تقسیم شامل ہیں ۔

عوامی ردعمل:
عمران خان کے اس خط نے ملک بھر میں سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ “جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے، پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا” ۔ انہوں نے ملک گیر احتجاج کے لیے اپنے支持者们 کو تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔

آئندہ کارروائی:
عدالتی کارروائی کے حوالے سے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سزا معطلی کے کیس کو 25 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، عمران خان کے وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی درخواست بھی کی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں