71

کراچی میونسپل اسپتالوں میں بوگس بلنگ اسکینڈل: قومی خزانے سے کروڑوں روپے کی مبینہ بربادی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کے تحت چلنے والے اسپتالوں میں بوگس بلنگ کے ایک بڑے اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس میں قومی خزانے سے کروڑوں روپے کی مبینہ بربادی کی گئی ہے۔ یہ مالی بے ضابطگیاں گزشتہ مالی برس کے دوسرے عشرے (جنوری 2025 تا جون 2025) کے دوران سامنے آئی ہیں، جس میں عباسی شہید اسپتال کے ایم آر آئی مشین کی مرمت کے نام پر 1 کروڑ 33 لاکھ روپے کا بوگس بل شامل ہے ۔

اسکینڈل کی اہم تفصیلات:
یکساں کمپنی کو ٹھیکے: اسپتالوں کے تمام ٹینڈرز ایک ہی کمپنی “بائیو میڈیکل اسٹار انٹرپرائزز” کو دیے گئے، جس نے آپریشن تھیٹر لائٹس، ڈینٹل چیئر، اور ڈوپلر سمیت جعلی سپلائیز کی فراہمی کا دعویٰ کیا ۔

ملوث افراد: تحقیقات میں KMC کے سینئر افسران اور وینڈر عبدالباسط کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ سرکاری کاغذی کارروائی میں جعل سازی کے ذریعے خطیر رقم ہتھیائی گئی ۔

کمپنی کا مؤقف: بائیو میڈیکل اسٹار انٹرپرائزز نے تحقیقاتی اداروں کو مؤقف دینے سے گریز کیا، جس نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے ۔

مریضوں اور عملے پر اثرات:
مریضوں کی مشکلات: مریض سرکاری سہولت سے محروم ہو گئے ہیں اور انہیں مہنگے نجی اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور کیا گیا ۔

عملے کے مسائل: عباسی اسپتال کے ڈاکٹرز 5 ماہ سے ماہانہ وظائف کے منتظر ہیں۔ احتجاج پر مئیر کراچی نے ڈاکٹرز کو فارغ کرنے کی دھمکی دی، لیکن بوگس بلنگ سے قومی خزانہ لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے ۔

اسپتالوں کی موجودہ صورتحال:
یہ اسکینڈل اس وقت سامنے آیا ہے جب کراچی کے اسپتالوں میں وسائل کی کمی کے باعث مریضوں کو علاج معالجے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ کورونا وائرس کے دوران اسپتالوں میں بیڈز کی دستیابی already ایک بڑا مسئلہ تھی، اور اب یہ اسکینڈل اسپتالوں کے انتظامی نظام پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے ۔

تحقیقات اور مستقبل کے اقدامات:
اب تک تحقیقاتی اداروں نے ملزم افسران اور وینڈر کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ مالی بے ضابطگیوں کی نوعیت اور اس کے اثرات کو دیکھتے ہوئے مزید گہری تحقیقات ناگزیر ہیں ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے اور سرکاری اداروں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں