56

برطانوی ڈاکٹر کو آپریشن تھیٹر میں نرس کے ساتھ جنسی حرکت کا مرتکب پانے کے باوجود پریکٹس کی اجازت

لندن (ایچ آراین ڈبلیو) برطانیہ کے میڈیکل ٹریبونل نے ایک ایسے اینسٹیزیا ماہر ڈاکٹر کو دوبارہ پریکٹس کی اجازت دے دی ہے جس پر آپریشن تھیٹر میں ایک مریض کے بیہوش होنے کے دوران نرس کے ساتھ جنسی حرکت میں ملوث ہونے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

واقعے کی تفصیلات
44 سالہ ڈاکٹر سہیل انجم، جو اصل میں پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں، پر 16 ستمبر 2023 کو ٹیمسائیڈ ہسپتال میں ایک آپریشن کے دوران مریض کو بیہوش کرنے کے بعد آپریشن تھیٹر چھوڑ کر جانے اور ایک نرس کے ساتھ جنسی حرکت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

واقعے کے اہم پہلو:
ڈاکٹر نے مریض کو بیہوش کرنے کے بعد آپریشن تھیٹر چھوڑ دیا

انہوں نے ایک دوسری نرس کو مریض کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی

وہ پاس کے آپریشن تھیٹر میں گئے جہاں ‘نرس سی’ کے ساتھ جنسی حرکت میں ملوث ہوئے

ڈاکٹر تقریباً آٹھ منٹ تک غیر حاضر رہے

خوش قسمتی سے مریض کی حالت مستحکم رہی

تحقیقات اور کارروائی
یہ واقعہ ایک دوسری نرس نے دیکھا جس نے بعد میں ہسپتال انتظامیہ کو اطلاع دی۔ اس واقعے پر ڈاکٹر انجم کو فروری 2024 میں برطرف کر دیا گیا تھا۔

میڈیکل پریکٹیشنرز ٹریبونل سروس (MPTS) کے سامنے پیشی کے دوران ڈاکٹر انجم نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور اسے “شرمناک غلطی” قرار دیا۔ انہوں نے اپنے ہمکاروں، ہسپتال اور پیشے کو پہنچنے والے نقصان پر ندامت کا اظہار کیا۔

ٹریبونل کا فیصلہ
ٹریبونل کی سربراہ ربیکا ملر نے کہا کہ ڈاکٹر انجم کے actions نے مریض کی دیکھ بھال سے زیادہ اپنے مفادات کو ترجیح دی، لیکن انہوں نے حقیقی ندامت ظاہر کی ہے اور مستقبل میں ایسا سلوک دہرانے کا امکان نہیں ہے۔

پینل نے ان کی میڈیکل پریکٹیس پر پابندی عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ یہ بعد میں غور کرے گا کہ آیا ان کے پیشہ ورانہ ریکارڈ پر ایک سرکاری انتباہ شامل کیا جائے۔

ڈاکٹر کی ذاتی کیفیت
ڈاکٹر انجم نے ٹریبونل کو بتایا کہ وہ برطانیہ میں اپنے کیریئر کو دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں جبکہ اپنے خاندان کی کفالت کرنا چاہते ہیں جو اس وقت پاکستان میں مقیم ہیں۔

میڈیکل ایتھکس پر تبصرہ
اخلاقی اصول صورت حال
مریض کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی
پیشہ ورانہ ذمہ داری سنگین طور پر نظر انداز
ہسپتال کے اصول واضح طور پر violated
نجی اور پیشہ ورانہ زندگی حدوں کو blur کر دیا

میڈیکل کمیونٹی کا ردعمل
اس فیصلے پر برطانوی میڈیکل کمیونٹی میں Mixed reactions ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ مریضوں کی حفاظت کے معیارات کے منافی ہے، جبکہ دوسرے بحالی اور دوسرا موقع کے حق میں ہیں۔

ہسپتال کے پروٹوکول
اس واقعے کے بعد ٹیمسائیڈ ہسپتال نے آپریشن تھیٹر کے پروٹوکول کو مزید سخت کر دیا ہے، خاص طور پر:

آپریشن کے دوران عملے کی غیر حاضری پر سخت نگرانی

مریض کی نگرانی کے لیے واضح گائیڈ لائنز

ایمرجنسی صورتحال کے لیے بیک اپ پلان

مستقبل کے اثرات
یہ فیصلہ میڈیکل ایتھکس اور پیشہ ورانہ غلطیوں کے حوالے سے ایک اہم precedent قائم کر سکتا ہے۔ میڈیکل پریکٹیشنرز ٹریبونل سروس نے اپنے فیصلے میں بحالی کے حق میں فیصلہ دیا ہے، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات پر بحث جاری ہے۔

نوٹ: یہ واقعہ میڈیکل پروفیشنلز کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ مریضوں کی دیکھ بھال اور ذاتی حرکات کے درمیان واضح حد قائم رکھیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے لیے یہ سبق ہے کہ وہ آپریشن تھیٹر کے پروٹوکول کو مزید سخت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں