58

طالبات کی فیس میں سے 97 لاکھ روپے ہڑپ،جناح وومن یونیورسٹی کا سپرنٹینڈنٹ گرفتار

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) نارتھ ناظم آباد واقع جناح وومن یونیورسٹی کے ایک سپرنٹینڈنٹ کو طالبات کی امتحانی فیس میں خردبرد کے سنگین الزام میں آنٹی کرپشن ایجنسی نے گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم ریحان احمد پر الزام ہے کہ اس نے 97 لاکھ روپے کی بھاری رقم ہڑپ کی جو طالبات کی امتحانی فیس کے طور پر جمع کرائی گئی تھی۔

تحقیقات کے مراحل
یونیورسٹی حکام نے جب اکاؤنٹس میں بے قاعدگیوں کا پتہ چلایا تو انہوں نے آنٹی کرپشن محکمہ سے رابطہ کیا۔ محکمے نے تفتیش شروع کی اور ملزم کے خلاف ثبوت جمع کیے۔ تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ ملزم کافی عرصے سے روپوش تھا، تاہم آخرکار اسے گرفتار کر لیا گیا۔

مالی بے قاعدگیوں کی تفصیلات
الزام تفصیل
رقم کی مقدار 97 لاکھ روپے
مالی بے قاعدگی طالبات کی امتحانی فیس کی خردبرد
ملزم کا عہدہ یونیورسٹی سپرنٹینڈنٹ
رقم کا استعمال ذاتی اخراجات کے لیے

قانونی کارروائی
اینٹی کرپشن ویسٹ زون کے ترجمان کے مطابق، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا ردعمل
جناح وومن یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف صفر رواداری کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نے فوری طور پر قانونی اداروں سے رابطہ کیا اور مکمل تعاون کا وعدہ کیا۔ ہم طالبات کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے”۔

تعلیمی اداروں میں بدعنوانی: ملک بھر میں صورتحال
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں مالی بدعنوانی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں کئی یونیورسٹیوں کے اہلکاروں کو اسی نوعیت کے مالی اسکینڈلز میں ملوث پायا گیا ہے۔

اینٹی کرپشن کی کارروائی
اینٹی کرپشن محکمے کے مطابق، وہ تعلیمی اداروں میں بدعنوانی کے خلاف مزید کارروائی جاری رکھیں گے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر انہیں کسی مالی بے قاعدگی کا پتہ چلے تو فوری طور پر ہیلپ لائن 1334 پر رابطہ کریں۔

عوامی ردعمل
سماجی میڈیا پر اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بدعنوانی نہ صرف قومی وسائل کی بربادی ہے بلکہ ملک کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔

مستقبل کے اقدامات
یونیورسٹی انتظامیہ نے مالی کنٹرولز کو مزید سخت کرنے اور شفاف اکاؤنٹنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آنٹی کرپشن محکمہ نے بھی دیگر تعلیمی اداروں میں اسی نوعیت کی ممکنہ خردبرد کی نشاندہی کے لیے جائزے کا اعلان کیا ہے۔

اس واقعے نے تعلیمی اداروں میں مالی نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کیے ہیں اور ماہرین مکمل شفافیت اور احتیاطی اقدامات کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں