ٹانک (ایچ آراین ڈبلیو) ضلع ٹانک میں تین روزہ انسداد پولیو مہم کا تیسرا دن بھی پرامن اور منظم انداز میں مکمل ہوا۔ پولیس اور صحت کے محکموں کے باہمی تعاون سے چلائی جانے والی اس مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔
سکیورٹی انتظامات اور پولیس کی تیاری
ضلعی پولیس نے پولیو مہم کے دوران مکمل سکیورٹی فراہم کی۔ حساس علاقوں میں اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی، اور تمام پولیو ورکرز کو سکیورٹی دستوں کی مدد فراہم کی گئی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹانک شبیر حسین شاہ نے خود فیلڈ کا دورہ کرکے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔
مہم کی تفصیلات اور ہدف
شعبہ تفصیل
مہم کی مدت 3 روزہ
ہدف 5 سال سے کم عمر بچے
علاقے ضلع ٹانک کے تمام یونین کونسلز
سکیورٹی دستے پولیس، ایف سی، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے
ڈی پی او کا فیلڈ دورہ اور ہدایات
ڈی پی او شبیر حسین شاہ نے مختلف یونین کونسلز کا دورہ کیا اور پولیس اہلکاروں اور پولیو ورکرز سے بات چیت کی۔ انہوں نے سکیورٹی پلان کا تفصیلی جائزہ لیا اور ہدایات جاری کیں کہ گاؤں اور دور افتادہ علاقوں میں بھی ٹیموں کے ساتھ مسلسل موجود رہا جائے۔
ڈی پی او کا عوام سے اپیل
ڈی پی او ٹانک نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں: “بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ پولیس اس مقصد کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پولیس اور عوام کا باہمی اشتراک ہی مہم کی کامیابی کی ضمانت ہے”۔
پولیو کے خلاف جنگ: قومی اور صوبائی صورتحال
خیبر پختونخوا کے آٹھ اضلاع میں تین روزہ انسداد پولیو مہم چلائی جا رہی ہے، جن میں باجوڑ، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان شامل ہیں۔ حال ہی میں ضلع ٹانک اور شمالی وزیرستان سے پولیو کے دو نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ملک میں پولیو کیسز کی کل تعداد 23 ہو گئی ہے۔
پولیو وائرس کی موجودگی کے حوالے سے اعداد و شمار
علاقہ پولیو کیسز ماحولیاتی نمونوں میں وائرس
خیبر پختونخوا 15 75+ اضلاع
سندھ 6 –
پنجاب 1 –
گلگت بلتستان 1 –
وزیراعظم کی ہدایات اور قومی ردعمل
وزیراعظم شہباز شریف نے پولیو کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز شرکت کریں گے۔ اس اجلاس کا مقصد ملک بھر میں انسداد پولیو مہمات کا جائزہ لینا اور موثر حکمت عملی مرتب کرنا ہے۔
عوامی اور ذمہ داری
پولیو کے خاتمے کے لیے عوامی合作 نہایت ضروری ہے۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ ڈی پی او ٹانک نے زور دیا کہ “آنے والے دنوں میں بھی یہ سلسلہ اسی جذبے اور عزم کے ساتھ جاری رکھا جائے گا تاکہ پولیو کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے”۔
مستقبل کی حکمت عملی
قومی انسداد پولیو مہم کے تحت یکم تا 7 ستمبر 2025 تک ملک بھر میں 2 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ مہم 99 اضلاع میں بیک وقت منعقد کی جائے گی۔
ٹانک پولیس کے مطابق، وہ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ عوام اور اداروں کے باہمی تعاون سے ہی پاکستان سے پولیو کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔


