اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) وفاقی حکومت نے آئندہ 15 روز (17 ستمبر سے یکم اکتوبر 2025) کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارت خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 264 روپے 61 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 78 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 272 روپے 77 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے ۔
قیمتوں میں تبدیلی کی تفصیلات
مصنوعات پرانی قیمت (روپے میں) نئی قیمت (روپے میں) تبدیلی
پیٹرول 264.61 264.61 برقرار
ہائی اسپیڈ ڈیزل 269.99 272.77 +2.78 روپے
نئی قیمتوں کا اطلاق 17 ستمبر 2025 کی رات 12 بجے سے ہو گیا ہے ۔
ڈیزل مہنگا ہونے کے معاشی اثرات
ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ ڈیزل کا استعمال محض گاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک کے زراعت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں کے لیے ایک اہم ایندھن ہے ۔
ٹرانسپورٹ شعبہ: ڈیزل مہنگا ہونے سے بسوں، ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس کا براہ راست اثر عوام کی روزمرہ کی نقل و حمل کی لاگت پر پڑے گا۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ: ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے ذریعے ملک بھر میں خوراک، سبزیاں، آٹا، پھل اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے ترسیلی لاگت بڑھے گی، جو بالآخر صارفین کو ادا کرنی پڑے گی۔
زراعت پر اثرات: کاشتکاری میں ڈیزل کا استعمال ٹریکٹرز، واٹر پمپس اور تھریشر مشینوں میں ہوتا ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے کاشتکاری کی لاگت بڑھے گی، جس سے زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔
صنعتی پیداوار: بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی صورت میں بیشتر صنعتیں جنریٹرز کے ذریعے بجلی پیدا کرتی ہیں، جن میں ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھے گی، جس سے ملکی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں ۔
حکومتی فیصلے کے پیچھے ممکنہ وجوہات
ماہرین معاشیات کے مطابق حکومت کا پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ عوامی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ملک میں مہنگائی کی شرح پہلے ہی بلند ترین سطح پر ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ طور پر آئی ایم ایف کی شرائط، آئندہ ضمنی انتخابات یا سیاسی دباؤ کی وجہ سے کیا گیا ہے ۔
بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو پاکستان میں آنے والے وقت میں پیٹرول کی قیمت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے ۔
عوامی اور ماہرین کی آرا
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر مخلوط ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک طرف حکومت کو پیٹرول کی قیمت نہ بڑھانے پر سراہا جا رہا ہے، تو دوسری طرف ڈیزل مہنگا کرنے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے ۔
معاشی ماہر ڈاکٹر زبیر کے مطابق:
“ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا اثر فوری طور پر نہیں، بلکہ ایک ہفتے کے اندر اندر سبزی، فروٹ، گوشت، اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر دیکھنے کو ملے گا۔ یہ فیصلہ بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے تو مفید ہو سکتا ہے، مگر عوامی سطح پر یہ نقصان دہ ثابت ہوگا” ۔
مستقبل کے امکانات
بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو پاکستان میں آنے والے وقت میں پیٹرول کی قیمت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر روپے کی قدر مزید گرتی ہے اور درآمدی لاگت بڑھتی ہے تو عوام کو مزید مہنگائی کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان صرف اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ حکومت اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے وقتی اعلانات کے بجائے مستقل اور پائیدار اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے ۔


