58

دریائے سندھ میں سیلابی ریلوں کا سلسلہ جاری،عاقل آگانی لوپ بند کے مقام پر خطرناک صورت حال

لاڑکانہ(ایچ آراین ڈبلیو)دریائے سندھ کے بڑے بیراجوں پر پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گڈو بیراج پر انتہائی خطرناک درجے کا سیلاب آیا ہوا ہے جہاں پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 35 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔

سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں پانی کی آمد 5 لاکھ 6 ہزار کیوسک ہے، جبکہ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کے باوجود پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 78 ہزار کیوسک تک ہے۔

دریائے سندھ کے دیگر مقامات پر بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو رہی ہے۔ کوٹ مٹھن راجن پور اور چاچڑاں شریف کے مقامات پر پانی کی سطح 11.7 فٹ تک جا پہنچی ہے۔

لاڑکانہ کے علاقے میں سیہون حفاظتی بند کے عاقل آگانی لوپ بند کے مقام پر انتہائی خطرناک ریلا گزر رہا ہے۔ سیلاب کے پانی نے اب تک 20 سے زائد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، لیکن مقامی آبادی منتقل ہونے پر آمادہ نہیں ہے۔ انتظامیہ نے بند کو مضبوط بنانے کے لیے پتھر منگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دریائے چناب میں ہیڈ پنجند پر پانی کا بہاؤ اگرچہ کم ہو کر 3 لاکھ 33 ہزار کیوسک رہ گیا ہے، لیکن اب بھی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور ہیڈ اسلام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ہیڈ سلیمانکی پر نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے۔دریائے راوی کی صورتحال بالآخر معمول پر آ گئی ہے۔سیلابی صورتحال کے پیش نظر حکام نے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں