بنیں (ایچ آر این ڈبلیو): وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف فوری کارروائی کرے، اور واضح کیا کہ “افغانستان کو خارجیوں یا پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔”
وزیراعظم نے یہ بات فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ بنوں کے سی ایم ایچ اسپتال میں زخمی فوجی جوانوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے ملوث ہیں، جو سرحد پار سے آ کر ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر حملے کر رہے ہیں۔
انہوں نے افغان حکومت کے سامنے دو راستے رکھتے ہوئے کہا، “اگر افغان حکومت پاکستان کے ساتھ ایمانداری کے تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں، لیکن اگر وہ دہشت گردوں کا ساتھ دیں گی تو پھر ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔”
وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کے سمجھوتے کو برداشت نہیں کرے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔


