53

دنیا بھر میں صحافتی آزادی 50 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی، رپورٹ میں جمہوریت کے بارے میں تشویش کا اظہار

اسٹاک ہوم (ایچ آر این ڈبلیو) – اسٹاک ہوم میں واقع انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹینس (IDEA) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں صحافتی آزادی گزشتہ پچاس سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جس میں تمام براعظموں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

افغانستان، برکینا فاسو اور میانمار سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں، جبکہ جنوبی کوریا میں بھی حکومتی جانب سے صحافیوں کے خلاف ہونے والے مقدمات اور چھاپوں کی وجہ سے صحافتی آزادی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

IDEA کے سیکرٹری جنرل کیون کاساس-زامورا نے اس صورت حال کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم نے جمہوری صحت کے اہم اشارے میں اتنی شدید گراوت پہلے کبھی نہیں دیکھی”۔

رپورٹ کے مطابق، 43 ممالک میں صحافتی آزادی میں واضح کمی دیکھی گئی ہے، جن میں افریقہ کے 15 اور یورپ کے 15 ممالک شامل ہیں۔ زامورا نے اس کی وجہ حکومتی پابندیوں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو قرار دیا۔

انہوں نے مقامی میڈیا کے خاتمے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جو جمہوری بحث میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگرچہ رپورٹ 2024 تک کے دور کو شامل کرتی ہے، لیکن زامورا نے خبردار کیا کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی سے عالمی سطح پر صحافتی آزادی کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

——
ایچ آر این ڈبلیو اپیل:
جیسے جیسے صحافتی آزادی کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں، آزاد صحافت کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ سچائی کی تشہیر اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔
عطیہ کریں: hrnww.com/donate

اپنا تبصرہ بھیجیں