57

جلالپور پیر والا اور علی پور میں امدادی کشتیاں الٹ گئیں، 3 بچے جاں بحق، 9 افراد لاپتہ

لاہور، ملتان، بہاولپور(ایچ آراین ڈبلیو) پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، تازہ واقعات میں سیلاب متاثرین کی کشتیاں الٹ گئی ہیں جس سے کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 9 لاپتہ ہو گئے، ملتان سے نوجوان کی لاش برآمد ہو گئی، 21 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ پر فصلوں کا نقصان ہوا ہے۔

دریائے ستلج میں بھکاں پتن کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب سے پانی راجیکا، بہادرکا شرقی اور قاسمکا کے قریب بند ٹوٹنے سے پانی مزید آبادیوں میں داخل ہو گیا۔

دریائی پٹی کے 150 کلومیٹر کے علاقے میں 145 موضع جات بری طرح متاثر ہوئے ہیں، ایک لاکھ بیس ہزار ایکڑ سے زائد کھڑی فصلیں ڈوب گئیں، متعدد سڑکیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں، کئی دیہات کا بہاولنگر سے زمینی راستہ منقطع ہے، دریائی بیلٹ میں 34 سکول غیر معینہ مدت کیلئے بند ہیں ۔

متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء، ادویہ اور جانوروں کے لیے چارے کی قلت کا سامنا ہے۔ادھر ملتان کے موضع گردیز پور میں سیلابی پانی سے لاش برآمد ہوئی جس کی شناخت 25 سالہ محمد جعفر کے نام سے ہوئی ہے، جعفر دو روز قبل جانوروں کو بچاتے ہوئے سیلابی پانی میں ڈوب گیا تھا۔

خان بیلہ اور موہانہ سندیلہ میں سیلاب متاثرین کی کشتیاں الٹی ہیں، موہانہ سندیلہ میں کشتی الٹنے سے چار سالہ بچہ جاں بحق ہوا، 18 افراد کو زندہ نکال لیا گیا جبکہ 9 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن ہو رہا ہے۔خان بیلہ میں سیلاب متاثرین کی الٹنے والی کشتی میں 20 افراد سوار تھے جن میں سے 2 ماہ کا بچہ ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ادھر مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقے لتی ماڑی میں بھی سیلاب متاثرین کی کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق کشتی میں 10 سے زائد افراد سوار تھے، اسی دوران ایک شخص نے کشتی میں لٹکنے کی کوشش کی جس سے کشتی توازن کھو بیٹھی اور الٹ گئی، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔

دوسری طرف بہاولنگر کی بستی کلر والی کے مقام پر دریائے ستلج میں 12 سالہ بچہ ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

علاوہ ازیں ترنڈہ محمد پناہ کے علاقے نور والا میں کشتی حادثہ میں جاں بحق افراد کی تعداد مزید 2 لاشیں ملنے کے بعد 8 ہو گئی، ڈوبنے والے ایک شخص کی لاش کی تلاش تاحال جاری ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 3 بچے، 4 خواتین اور ایک مرد شامل ہے۔

سیلاب سے ملتان کے قریب جلال پور شہر کو بچانے کے لیے اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈال دیا گیا، حکام کے مطابق جلال پور شہر کو بچانے کے لیے بنائے گئے عارضی بند پر پانی کا دباؤ کم نہیں ہو رہا تھا۔

لیاقت پور نوروالا میں کئی دہائیوں سے خشک دریائی علاقے میں دریائے چناب واپس آیا تو افراتفری مچ گئی، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر مکینوں کا انخلا کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں