82

آرمی چیف کی مدت ملازمت پارلیمانی ایکٹ کے تحت 5 سال ہوئی،اسے توسیع نہیں کہہ سکتے، رانا ثنا اللہ

راولپنڈی(ایچ آراین دبلیو)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پارلیمان کے ایکٹ کے تحت اب آرمی چیف کی مدت 5 سال کر دی گئی ہے، اس میں ایکسٹینشن کہاں سے آگئی؟پنجاب اسمبلی میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کو بلاوجہ موضوع بحث بنایا جارہا ہے، آرمی چیف کی اب مدت 5 سال کے لیے ہے اور یہ 2027 میں ختم ہوگی۔

جس کے بعد پھر ایکسٹینشن کا سوال اُٹھےگا، جس پر اُس وقت کی حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کسی زمانے میں آرمی چیف کی مدت ملازمت 4 سال کے لیے ہوتی تھی، 1976 میں اسے کم کر کے 3 سال کر دیا گیا، اب 5 سال بھی پارلیمان نے کی ہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ میں ذاتی طور پر پر توسیع کے خلاف رہا ہوں، ملک میں غیر ضروری ایکسٹینشنز بھی ہوتی رہی ہیں، اگر ایک ایسا بندہ جو کہ فیلڈ مارشل ہو اور یہ رواج بھی ہو تو پھر موجودہ آرمی چیف سے زیادہ حق دار آدمی کون ہو سکتا ہے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں