92

پیپلز پارٹی جمہوری جماعت ہے۔ بلاول بھٹو 21لاکھ گھر تعمیر کرا رہے ہیں

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)عوام دوست پارٹی (پاکستان) کے صدر شاہدرائیں اور جنرل سیکریٹری سعید تنولی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوری جماعت ہے۔بلاول بھٹو21لاکھ گھرتعمیرکرارہے ہیں۔ لیکن نو ہزار ایکڑ زمین اور اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر انکے میئر اور چیئرمین قبضہکررہےہیں۔کیا جعلسازیوں کوپی پی پی کیاعلی قیادت کی حمایت حاصل ہے۔اسکا جوان سعید غنی دیں۔انہوں نےاورنگی ٹاؤن کے متاثرین اورافسران کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ وفد نے اورنگی میں کرپشن اور جعلسازیوں کے حوالے سے آگاہ کیا کہ کرپٹ فیصل رضوی نے بتایا کہ جعلسازنےدوآؤٹ ورڈ رجسٹر بنارکھے ہیں۔ اپنے زمانے کا سیریل 300سے جبکہ سابقہ پی ڈی کا 500سے اوپر کی سیریل کا جعلی انٹریز کرکے بڑے بڑے کام اتارے جا رہے ہیں۔اس رجسٹر میں فیصل رضوی نے موٹیشن کئے ہیں جنکی تعداد 50 سے زیادہ ہے۔ یہ موٹیشن ایک خاتون ایمپلائی نے موصوف کے گھر کلفٹن جاکر کرائے تھے۔جب ان موٹیشن جنکی رقم اور عشرت کدے میں منظوری دینے والے پی ڈی نے ویری فکیشن مانگنے پر انہیں جعلی قرار دے کر خاتون اور دیگر اہلکاروں پر ذمہ داری ڈال دی۔ جبکہ انکے چالان بھی جاری کئے گئے۔ خاتون نے احتجاج کیا تو انکا فرمانا تھا مجھ سے نشے میں کرالئے ہونگے۔جب موٹیشن والے افراد نے انہیں ٹف ٹائم دیا اور رقم واپس مانگی تو اس نے ایس ایس پی ویسٹ کو درخواست دی ہے کہ یہ موٹیشن جعلی ہیں۔ایف آئی آر درج کی جائے۔ جبکہ موٹیشن جعلی کیسے بن سکتی ہے۔ جبکہ اس نے گزشتہ دنوں آؤٹ ورڈ رجسٹر غائب ہونے کی کہانی ڈالی تھی۔ متاثرین نے کہا کہ یہ چیک کیا جائے کہ یہ چالان جسکی رقم لی گئی بھرے گئے یا نہیں یا کھا لئے گئے؟ آر اینڈ آر سے اسکا ریکارڈ چیک کرایا جائے۔یہکرپشن کا ایک بہت بڑا فراڈ ہے جو جعلی آکشن کے بعد کیا گیا ہے۔وفد نے بتایا کہ میئر کراچی اور میونسپل کمشنرکی سرپرستی میں یہ فراڈ ہو رہے ہیں۔یہ کہتے ہیں پرانے افسروں پرسب ڈال کر کام اتارو۔غریب عوام کو لوٹنے کا نیا طریقہ نکالا گیا ہے جنکا کوئی پرسان حال نہیں۔اسوقتقانون نام کی کوئی چیز نہیں۔ الطاف نگر میں افضل زیدی کا بیٹر اسکا پیون شکیل کی جگہ پر ایک سرکاری دفتر بنا دیاہے۔ سٹی وارڈن کی گاڑی کھڑی کی ہوئی ہے۔ جہاں لوگوں کو بلا بلا کر ان سے لاکھوں روپے لئے جا رہے ہیں کہا جارہا ہے کہ ورنہ لیز منسوخ کردیں گے۔ لوگ گھبرا کر کوئی دو لاکھ کوئی پانچلاکھ دے کر اپنی زمین بچا رہا ہے۔ جسکے بعد انہیں این او سی دی جا رہی ہے۔ جو اس لئے قابل عمل نہیں ہے کہ عدالت نے سیکٹر 11 1/2 پر لیز سمیت ہر قسم کی موٹیشن، این او سی سب بند کردی ہے۔ اس کو بلدیہ ٹاؤن کا حصہ قرار دے دیاہے۔ اورنگی کا عملہ کس قانون کے تحت اورماروائے قانون صرف رشوت ستانی کے لئے توہین عدالت کامرتکب ہورہاہے۔ سادہ لوح عوام سے کھیلا جا رہا ہے۔ وفد نے بتایا کہ جعلساز پی ڈی نے ایس ایس پی سے ڈی ایس پی کو بھیج دی ہے پولیس بھی متاثرہ افراد کو دھمکیاں دے رہی ہے۔ جس سے میئر کراچی، میونسپل کمشنر، پی ڈی اورنگی، ڈی ایس پی کا گٹھ جوڑ ثابت ہوچکا ہے۔ جو وصولی مہم پر لگے ہوئے ہیں۔ بدترین کرپشن اور چائناکٹنگ میں پولیس، ڈپٹی کمشنر اور یہ سب افراد ملوث ہیں۔ حد یہ ہے کہ اگر کوئی آوازاٹھاتا ہے تومیئر کراچی ایف آئی آر کٹوانے کی کھلی دھمکی دیتے ہیں۔یہ عوامی میئر نہیں ہیں یہ جعلی مینڈیٹ کے میئر ہیں۔انکے خلاف فوری عوامی مہم چلائی جائے۔ جماعت اسلامی اسکا نوٹس لے۔ میئر کراچی کراچی کی بربادی اور زمینوں پر قبضوں اور کرپشن پر فوری استعفی دیں۔یہ کرپشن اور کرپٹ افسران کے ساتھ ملکر بلاول بھٹو کی کاوشوں کو بٹا لگا رہے ہیں۔ ان سے تنقید اسی لئے برداشت نہیں ہوتی کہ یہ سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ہر محکمے سے منتھلی لی جا رہی ہے۔ مزید براں انکشاف کیا گیاکہ اینٹی کرپشن کورٹ میں ملی بھگت سے بھاری رشوت لے کر شاہنواز ہالیپوٹونے میئر کراچی اور میئر کے دست راست ڈی جی کی مداخلت اور بھاری رقوم لیکر جو کلفٹن کے عشرت کدے پر شراب اور شباب کی محفل کے ساتھ دی گئی۔ کرپٹ افسر فیصل رضوی کی سرپرستی اور سپورٹ کی جا رہی ہے۔ ہمیں پارٹی بننے سے روکا جا رہاہے۔ شاہنواز یکطرفہ طور پر بکنے کے بعد میئر کی ہدایت پر کرپٹ افسر کو بچا رہاہے۔ اسکو بچانے کیلئے جعلسازی پر مبنی 544صفحات کی رپورٹ جج کو گمراہ کرنے کے لئے جمع کرائی ہے۔ فیصل رضوی کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ یہ شخص دس سال ملک سے باہر رہ کر جبکہ نہ اس نے چحتی لی نہ میڈیکل نہ ایکس پاکستان لیف، میئر نے کس قانون کے تحت دس سال کی تنخواہ دی گھوسٹ ورکرز کی سرپرستی کیوں؟ لیب اٹینڈنٹ کی جعلی سروس بک پر ایکشن کیوں نہیں؟ حساس اداروں کو بھی یہ سب گمراہ کر رہے ہیں۔سندھ حکومت، اینٹی کرپشن اور میئر کراچی کراچی کے لئے بدنما داغ بن گئے ہیں۔ انکی گورننس صفر ہے۔ کرپشن سو فیصد ہے۔ جعلساز افسر صحافی زیشان کی عدالتی ویری فیکیشن پر پھنس گیا تو ڈرامہ بازی شروع کردی۔جس موٹیشن کو جعلی قرار دیا اسکی انٹریز موجود تھیں۔ایک نمبر موٹیشن کو دو نمبر قرار دیکر مذید رشوت ستانی کا بازار گرم کر رہا ہے۔چالان بک موصوف کے پاس ہوتی ہے اس لئے دو نمبری میں یہ خود ملوث ہے۔ عوام مکے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے۔ شرف الدین کی جگہ لیز پر لیز فیصل رضوی نے کردی ہے۔ سب رجسٹرار اور پی ڈی اورنگی ساڑھے گیارہ پر کورٹ کی بندش کے باوجود لیز کر رہے ہیں۔ متاثریں نے بتایا کہ اس گھناونے کام میں کلثوم، امتیاز بٹ، مقصود، زیشان، شامل ہیں جو فیصل رضوی کی ٹیم ہیں لیکن پول کھل جانے اور میڈیا تک بات پہنچ جانے پر اس نے ان تمام افراد کی ایف آئی آر کے لئے لکھ کر خود کو پارسا بنانے کی ناکام کوشش کی ہے۔۔گلشن ضیاء کی جو زمین کے ایم سی سے عدالتی حکم پر چھن گئی وہاں فیصل رضوی اور اسکی ٹیم بھتہ وصولی کر رہی ہے۔ شاہدآرائیں اور سعیدتنولی نے بلاول بھٹوسے فوری ایکشن لینے اور سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں