کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) ڈسٹرکٹ ایسٹ میں غیرقانونی تعمیرات کے حوالے سے لا فرم کرم ایسوسی ایٹس کی جانب سے قائم کردہ لیگل سیل میں عوام کا تانتا بندھ گیا، جو اپنے ساتھ غیرقانونی تعمیرات کی تصویر اور مطلوبہ معلومات لے کر آفس پہنچے، جس پر کرم ایسوسی ایٹس کی جانب سے آج بھی اسکیم 24 کے پانچ اور پی ای سی ایچ سوسائٹی کے 5 پلاٹوں پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے آن لائن پورٹل میں اپیلٹ کمیٹی کی توجہ مبذول کرانے کے لئے اپیل زیر دفعہ 16 ایس بی سی او 1979 اور ترمیمی ایکٹ 2013 کمپلینٹ رجسٹرڈ کر دی گئی جن کی آئی ڈی نمبرSCRM-20250827-8 سے لے کر 17 تک جاری کر دی گئی ہیں،
واضح رہے ایس بی سی اے اسپیشل کورٹ ڈسٹرکٹ ایسٹ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ندیم احمد جمال سمیت مختلف وکلا کی دائر کردہ کرمنل کمپلینٹ پر حکم نامہ جاری کیا تھا کہ کمپلینٹ جمع کرا کے پہلے اپیلٹ کمیٹی کو60 دن اور بعدازاں اس کی اپیل اتھارٹی کو جمع کرا کے انہیں 30 دن کا وقت دیا جائے اور اس کے باوجود غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی نہ ہو سکے تو پھر عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے اور عدالت پھر فوری کیس کی سماعت شروع کر دے گی-
شکایت گزاروں نے سیل کے سربراہ ایڈوکیٹ ندیم احمد جمال سے ایک اہم سوال کیا کہ 90 دن کی مدت میں پورشن مافیا اپنا کام تقریبا ختم کرنے کے قریب پہنچ جاتی ہے تو کس طرح ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، توایڈوکیٹ ندیم احمد جمال نے کہا کہ یہ ایک کرمنل کمپلینٹ ہے، بلڈنگ مکمل ہونے یا رہائش اختیار ہونے کے باوجود جرم اپنی جگہ باقی رہتا ہے، عدالت اس جرم پر بلڈر اور ملوث افسر کے خلاف فرد جرم عائد کرکے انہیں سزا دے سکتی ہے اور جس طرح کرمنل کارروائی میں شناختی کارڈ بلاک ہونے سے لے کر پراپرٹی ضبط کرنے کی کارروائی ہوتی ہے وہی طریقہ کار یہاں بھی اپلائی کیا جائے گا-


