57

میئرکراچی نےحافظ نعیم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن اپنی یوسی کی سیٹ سے مستعفی ہوں تاکہ وہاں سے کوئی نمائندہ منتخب ہوکر عوام کو ریلیف پہنچاسکے،فاروق ستار عرف بابو بھائی وفاق سے کراچی کو آفت زدہ قرار دلواکر دکھائیں،صرف باتوں اورتنقید سےمسئلہ حل نہیں ہوگا،جماعت اسلامی کے ٹائونز کو 27 ارب روپے دے چکے ہیں لیکن یہ کارکردگی دکھانے کےبجائےنعرے لگاتےاورمنفی پروپیگنڈہ کرتےہیں،جماعت اسلامی کے چیئرمینز کو جماعتی پن سے نکلنا ہوگا ،لاہور میں سب لاہوری جبکہ کراچی میں سب مختلف پارٹیوں میں بٹےہوئےہیں، پیپلز پارٹی اور میرے بغض میں کراچی کو نیچا دکھایا جارہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نےگذشتہ روزپریس کانفرنس سےخطاب کرتےہوئےکیاا س موقع پرڈپٹی میئرکراچی سلمان عبداللہ مراد سمیت دیگرافراد بھی موجود تھے،میئر کراچی مرتضی وہاب نےکہا کہ کراچی میں تقریبا600نالے ہیں جن میں سے 46 بڑے نالے کے ایم سی کی حدود میں آتے ہیں جبکہ 500 سے زائد نالے مختلف ٹانز کے دائرہ اختیار میں ہیں، مجھ پر تنقید کی گئی کہ میئر نے نالے صاف نہیں کرائے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میئر نے پانی ٹرکوں میں بھر کر نہیں نکلوایا بلکہ نالے صاف ہونے کی وجہ سے شہر میں تین سو ملی میٹر سے زائد بارش کا پانی انہی نالوں کے ذریعے نکالا گیا،انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان بلخصوص فاروق ستار اور جماعت اسلامی کی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کے رہنماں نے اس وقت سڑکوں پر پریس کانفرنس کی جب سڑکیں کلیئر تھیں ، منعم ظفر صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے لیاقت آباد ٹائون کے تحت پانچ روز قبل تعمیر کی گئی الطاف حسین بریلوی روڈ بارش کے پانی میں بہہ گئی،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو یہ بھی واضح کرنا چاہئے کہ جماعت اسلامی کے ٹانز کو اب تک 27 ارب روپے دیئے جا چکے ہیں لیکن وہ اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کے بجائے صرف نعرے لگاتے اور منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں جبکہ حقیقت سب کے سامنے ہے، مرتضی وہاب نے کہا کہ 40سال سے جن کی منفی انداز میں ٹریننگ ہوئی ہے ان کا ہم کچھ نہیں کرسکتے،کراچی میں کام ہورہا ہے،کراچی کی تمام بڑی سڑکیں کلیئر ہیں،میئر کراچی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے نمائندوں کو اپنے ذہنوں سے جماعتی پن نکالنا ہوگا، بلدیاتی نمائندے حکومت کا حصہ ہیں وہ جماعت اسلامی کے کارکن نہیں،انہوں نے مزید کہا کہ خود ساختہ میئر حافظ نعیم الرحمن اپنی یوسی کی سیٹ سے مستعفی ہوں تاکہ کوئی یہاں سے منتخب ہوکر شہریوں کی خدمت کرسکے،میئر کراچی نے فاروق ستار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بابو بھائی کو ریٹائرڈ کہا تو وہ برا مان گئے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اس وقت پی ایس اے ٹو گورنر سندھ ہیں،انہوں نے کہا کہ نیو کراچی نالے پر پہلی الاٹمنٹ فاروق ستار کے دور میں ہوئی تھی، آج وہ تنقید کرتے ہیں مگر حقیقت سب کے سامنے ہے،انہوں نے فاروق ستار کو بابو بھائی کہتے ہوئے کہا کہ وہ وفاق سے کراچی کو آفت زدہ قرار دلواکر دکھائیں اور یہاں کے عوام کوبارشوں سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کراکر دکھائیں صرف باتیں اور تنقید سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ نالوں پر تجاوزات قائم ہیں اور لوگوں نے اس پر معزز عدالتوں سے اسٹے آرڈر لئے ہوئے ہیں، میں ذاتی طور پر معزز عدالت میں حاضر ہوں گا اور وضاحت پیش کروں گا، کراچی ہم سب کا ہے اور ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں تین چار گھنٹے پانی رہا اور عوام کو تکلیف ہوئی، ان تین چار گھنٹوں کی تکلیف پر عوام سے معافی مانگتا ہوں-

اپنا تبصرہ بھیجیں