50

میئرکراچی ایک اورمشکل میں پھنس گئے،کےایم سی ایڈورٹائزمنٹ کے انصاری سسٹم میں ہاتھ ڈال دیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)صوبائی محکمہ انسداد رشوت ستانی(اینٹی کرپشن)نے انصاری سسٹم کے روح رواں معیز انصاری کے گرد گھیرا تنگ کردیا-سنگین کرپشن بدعنوانیوں جس میں پیڈسٹرین برجز، فلائی اوورز اور ان کی دیواروں پر خلاف ضابطہ بورڈز آویزاں کرنے سمیت غیر قانونی اسٹیمرز سے ماہانہ کروڑوں روپے کی بھتہ وصولی کی شکایات پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا

شہر قائد میں مبینہ بھتے کے عیوض انتہائی ناقص پائپ کے اسٹرکچر پر اشتہاری بورڈز بھی آویزں کئے گئے جس سے انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں-انصاری سسٹم پر ہاتھ ڈلتے ہی اشتہاری بورڈز کی مافیا میں کھلبلی مچ گئی-۔میئر کراچی کو چکما دیکر انصاری سسٹم خود کراچی کا بڑا ایڈورٹائزر بھی بن گیا ہے-

شہر میں بڑے پیمانے پر بغیر چالان اور این او سیز کے بھتہ کے عیوض اشتہاری سائٹس موجود ہونے کا انکشاف جبکہ جن کے چالان جمع کئے گئے ان میں سائز کا ہیر پھیر کرکے انصاری سسٹم نے حکومتی خزانے کو بڑا چونا لگادیا۔۔ذرائع

سہراب گوٹھ،گلشن چورنگی،سفاری پارک اور قیوم آباد سمیت دیگر مقامات پر انصاری سسٹم کے اپنے پیڈسٹرین برجز سائٹس موجود ہونے کاانکشاف ہے-پانچ ماہ قبل 20 مارچ 2025ءکو میئر کراچی نے انصاری سسٹم کی لوٹ مار پر کارروائی کرتے ہوئے معیز انصاری کو معطل کیا تھا لیکن چندروز بعد ہی سسٹم کے مبینہ دبائو پر میئر کراچی کو معطلی ختم کرنا پڑگئی تھی-

انصاری سسٹم کیخلاف کارروائی شروع ہوتے ہی کروڑوں کا سسٹم چلانے والے متحرک ہوگئے-لیکن یاد رکھو اب نہ میئر صاحب خود دبائو میں آئینگے اور نہ ہی انکوائری رکوانے کیلئے ابڑو صاحب یا کسی اور پر کوئی دبائو ڈلوائیں گے-

اپنا تبصرہ بھیجیں