کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا تقریب سے خطاب-مادر علمی جامعہ کراچی میں آج شرکت کرکے پرانی یادیں وابستہ ہوگئی-بہت خوشی ہے یہاں آنے کی آس جامعہ میں نکالا زیادہ جاتا ہے بلایا کم جاتا ہیں-سب سے بڑی معذوری ہے غلامی کو تسلیم کرنا-
یوم آزادی کا یہ مہینہ آپ سب کومبارک ہوں-یہاں پراکثریت ان لوگوں کی لگ رہی ہے جن کے اجداد نے قربانیاں پیش کی اس ملک کے لیئے-دنیا کی بہترین چیزوں کو ہم محسوس کرسکتے ہیں-جو محسوس کرسکتا ہیں وہ معزور نہیں-کراچی میں ہم تین جامعات کا چکے ہیں-حیدرآباد میں کئی عرصے بعد نئی جامعہ تشکیل پائی-
ہم مزید بھی جامعات اس شہرمیں لیکرآئینگے-یہ شہر چلتا ہے تو یہ ملک چلتا ہیں-جامعہ کراچی اس شہر کا مرکز ہیں-کشور باجی یہاں بیٹھی ہیں، کسی کو پتا نہیں معلوم ہے کہ نہیں، کہ کشور زہرا نے سب سے زیادہ معزور کے لیے کام کیا-وزارتِ تعلیم میں اسپیشل ایجوکیشن کا شعبہ بھی موجود ہیں-ہم مل کر اسپیشل ایجوکیشن پر کام کریں گے-
یہ وہ شہر ہے جو پورے ملک کو پال رہا ہیں، اقوام متحدہ اس شہر کو سنوارنے کے لیے کوشش کررہی ہیں-پاکستان کے ایوان میں ایک حصہ ایسا بھی ہے جہاں آپ میں سے تعلق رکھنے والے لوگوں آپکی ہی نمائندگی کررہی ہیں-


