کوئٹہ(ایچ آراین ڈبلیو)بلوچستان کے سب سے بڑے سرکاری سول ہسپتال کوئٹہ میں اربوں کی بے ضابطگیاں خصوصی آڈٹ رپورٹ نے سچ بے نقاب کردیا-کوئٹہ میں واقع سینڈمن پروونشل ہسپتال جو بلوچستان کا سب سے بڑا سرکاری طبی مرکز ہے، اس کی مالی سال 2017 تا 2022 کی خصوصی آڈٹ رپورٹ میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، بدانتظامی اور ریکارڈ کی عدم دستیابی کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ رپورٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بلوچستان کی ہدایت پر تیار کی گئی۔
اہم انکشافات:
1. ادویات کی خریداری میں 1.22 ارب روپے کی بے ضابطگیاں اسپتال انتظامیہ نے بغیر ڈریگ ٹیسٹنگ لیبارٹری (DTL) سے تصدیق کرائے 1,220.550 ملین روپے کی ادویات خریدیں۔ بعد ازاں جانچ میں کچھ ادویات ناقص ثابت ہوئیں، جبکہ کئی کا تجزیہ ہی نہیں ہوا۔
2. ریکارڈ گم یا غائب 568 ملین کے اخراجات مشکوک ادویات اور دیگر اشیاء کی خریداری کے متعلقہ اصل واؤچرز اور اسٹاک ریکارڈ دستیاب نہیں۔ تقریباً 568.461 ملین روپے کی ادائیگیاں ایسی ہیں جن پر کوئی ثبوت نہیں۔
3. ادویات کا غائب ہونا 22.825 ملین روپے کی مالیت کا نقصان آڈٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ مین اسٹور سے کروڑوں کی ادویات غائب ہیں، جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ اسٹاک رجسٹر میں جعلی اندراجات بھی پائی گئیں۔
4. آکسیجن سلنڈرز کی غیر معمولی خریداری 59.069 ملین روپے خرچ حالانکہ اسپتال میں خودکار آکسیجن پلانٹس موجود تھے، اس کے باوجود ایک لاکھ سے زائد آکسیجن سلنڈرز بغیر کسی طلب یا استعمال کے ریکارڈ کے خریدے گئے۔
5. مشکوک اسٹنٹس کی خریداری 6. 31.785 ملین روپے کا معاملہ Stents کی خریداری پر کوئی انڈنٹس، ڈیلیوری چالان، یا اسٹور انٹری موجود نہیں، جو سنگین بے ضابطگی ہے۔
مزید سنگین بے ضابطگیاں: LP ادویات اور کنزیومیبل آئٹمز کی خریداری میں 48.081 ملین روپے کی بے ضابطگی۔ فرنیچر اور مشینری کی خریداری پر 61.832 ملین روپے بغیر ریکارڈ کے خرچ۔
آکسیجن سلنڈر کی مہنگے داموں خریداری پر 1.342 ملین روپے کا نقصان۔ سپلائرز کو دیر سے سامان کی فراہمی پر بھی کوئی جرمانہ نہ لگایا گیا۔ ڈائیٹری چارجز کی مد میں 5.535 ملین روپے بغیر تفصیل کے نکالے گئے۔غیر منظور شدہ ٹھیکے اور بغیر ٹینڈر کی خریداریوں کا رجحان عام رہا۔
مالیاتی بدانتظامی کی مثالیں:ریونیو چالان نہ تو خزانے سے تصدیق شدہ تھے، نہ ہی کیش بک میں مکمل اندراج موجود تھا۔
49.372 ملین روپے کی ریونیو رقم کم جمع کی گئی۔کئی مہینوں کے ریونیو چالان مکمل طور پر غائب تھے۔
آڈٹ کی سفارشات:
تمام بے ضابطگیوں کی مکمل انکوائری کی جائے۔ ملوث اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ناقص اندرونی نظام کو بہتر بنایا جائے اور ریکارڈ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔اسپتال کے تمام مالیاتی عمل کو شفاف بنایا جائے۔
سینڈمن اسپتال کی خصوصی آڈٹ رپورٹ بلوچستان کے صحت کے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ایک طرف مریض بنیادی سہولتوں کے لیے ترس رہے ہیں، دوسری طرف اربوں روپے کے فنڈز کرپشن کی نذر ہورہے ہیں۔ احتساب، شفافیت اور اصلاحات کے بغیر اسپتال کا نظام صحت مند نہیں ہو سکتا۔


