50

سندھی اجرک والی نمبر پلیٹ پر مہاجر قومی موومنٹ کا موقف بہت واضح ہے

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھی اجرک والی نمبر پلیٹ پر مہاجر قومی موومنٹ کا موقف بہت واضح ہے۔ ۱)پہلی بات یہ کہ موٹر سائیکل ہو یا کار اسکی رجسٹریشن کے وقت نمبر پلیٹ کی فیس یا قیمت چونکہ ہم حکومت کو ادا کرتے ہیں جو لائف ٹائم ہوتی ہے اس لئے اگر حکومت نمبر پلیٹ میں کوئی تبدیلی کرنا چاہتی ہے تو کرے لیکن تمام لوگوں کو پیشکش کرے کہ پرانی نمبر پلیٹ جمع کروا کر نئی جاری کروالیں، اسکی ان سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ ۲)پیپلز پارٹی نمبر پلیٹ کی آڑ میں سندھی ثقافت اجرک کی شکل میں سندھ کے شہری عوام پر مسلط نہ کرے بلکہ اجرک کا نشان اختیاری ہونا چاہئے لازمی نہیں۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ کہ 1972ء میں PPنے ممتاز بھٹو کے ذریعے ہماری زبان پر حملہ کیا تھا اور اردو کو دفن کرکے سندھی زبان کو مسلط کرنے کی کوشش کی تھی جسے مہاجر عوام نے پوری طاقت سے مسترد کردیا تھا اور بھٹو کو سندھ کو دو لسانی صوبہ تسلیم کرنا پڑا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ 1972ء میں PPکی جانب سے ہماری زبان پر حملے نے سندھ کی شہری و دیہی تقسیم کی جو لکیر کھینچی تھی آج اجرک مسلط کرکے ہماری ثقافت پر کیا جانے والا حملہ سندھ کی شہری و دیہی تقسیم کو منطقی انجام تک پہنچائے گا۔ میں اپنے موقف پر دلیلوں کے ساتھ قائم ہوں۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے لسانیت بھڑکانے پر مہاجر عوام میں بہت غصہ ہے۔ حالات کو سمجھ کر دانشمندانہ اقدام کرنے کی بجائے سندھ بھر سے اونچی آواز میں مہاجروں کے خلاف باتیں کرکے مہاجروں کو دبانے کی بچکانہ کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ میں ادب کے ساتھ سندھی بھائیوں کی کچھ غلط فہمیاں دور کرنا چاہتا ہوں۔

1)قیام پاکستان سے پہلے سندھی بھائی جس سندھ میں رہتے تھے وہ ہندوؤں کا غلام سندھ تھا، آج جس سندھ میں رہ رہے ہیں وہ آزاد سندھ ہے جو میرے بزرگوں نے پاکستان بنا کر آپکو دیا ہے۔ مہاجر آپکے سندھ میں نہیں سندھی میرے سندھ میں رہ رہے ہیں۔

2)تاریخ سے ناواقف PPکے سندھی لیڈر کہتے ہیں مہاجروں کو ہم نے اپنی زمین پر پناہ دی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم، لارڈ ماؤنٹ بیٹن، نہرو اور گاندھی نے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت مہاجر اپنی زمین اپنے ساتھ لایا تھا، ان کی آدھی سے زیادہ زمین و جائیداد وں پر سندھی وڈیروں نے قبضہ کرلیا لیکن ہم نے درگزر سے کام لیا۔

اس معاہدے کے تحت صرف انسانوں کا تبالہ نہیں ہوا تھا بلکہ زمین اور جائیدادوں کا تبادلہ بھی اس معاہدہ میں شامل تھا جسکے تحت یہاں سے جانے والا ہندو وہاں سے آنے والے مہاجروں کی جائیدادوں کا حقدار ہوگا اور وہاں سے آنے والا مہاجر یہاں سے جانے والے سندھی ہندوؤں کی زمین اور جائیداد کا حقدار۔. اندرون سندھ کا جو ہندو یہاں سے ہندوستان چلا گیا اسے تو وہاں پاکستان جانے والے مسلمانوں کی زمین و جائیداد مل گئی لیکن کیا اس ہندو کی جائیدادمہاجروں کو منتقل کردی گئی؟۔ میری قوم کی انہی جائیداد اور زمینوں پر سندھی رہ رہا ہے اس لئے یہ کہنا ختم ہونا چاہئے کہ ہم نے مہاجروں کو پناہ دی، حقیقت یہ ہے کہ آپ یعنی سندھی مہاجروں کی زمین و جائیدادپر قابض ہیں اور رہ رہے ہیں۔

میں نے ایک استادکی فکر انگیز اور پر خلوص تقریر بھی سنی جس میں انہوں نے فرمایا کہ مہاجر قوم نہیں ایک کیفیت ہے، ہجرت کا عمل تھا جو ختم ہوگیا، اب سندھ میں رہتے ہیں انہیں سندھ میں (ABSORB) جذب ہوجانا چاہئے اور سندھی بن کر رہنا چاہئے۔ میں اس قوم سے تعلق رکھتا ہوں جہاں اساتذہ کا احترام کیا جاتا ہے، انہیں تھپڑ نہیں مارے جاتے اس لئے میں پروفیسر ساجد سومرو کی بات کو چیلنج نہیں کررہا بس اپنی رائے دے رہا ہوں کہ ”پناہ گزین اور مہاجر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، پناہ گزین اپنی سرزمین پر حالات خراب ہونے پر کسی دوسری سرزمین پر عارضی پناہ لیتا ہے اور حالات ٹھیک ہوجانے کے بعد اپنی سرزمین پر واپس چلا جاتا ہے۔ مہاجر اسلام کی خاطر اپنی زمین /وطن کو ہمیشہ کیلئے ترک کرتا اور سکونت اختیار کرتا ہے جو ہم نے کی ہے“۔ بین الاقوامی طور پر قومیت کی جو تعریف کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ”انسانوں کا گروہ جس کی اپنی زبان ہو، جنکی اپنی زمین ہو جہاں وہ آباد ہوں، انکا نفسیاتی ردعمل ایک جیسا ہو، معاشی مفادات اور رسم و رواج ایک جیسے ہوں وہ علیحدہ قومیت کی حیثیت رکھتے ہیں“۔الحمد للہ مہاجروں کی اپنی زبان ہے جسکا اپنا رسم الخط ہے، اپنی ثقافت ہے جس میں ماں باپ کے سامنے اللہ کے حکم کے مطابق ایسے پیش ہوتے ہیں جیسے بادشاہ کے سامنے غلام، ہم بہن بیٹیوں کو رحمت سمجھتے ہیں جائیداد کی تقسیم سے بچنے کیلئے انکی شادی کھجور کے درخت یا قرآن سے نہیں کروا سکتے۔ ہمارا مشترکہ معاشی مفاد ہے جو پڑھنے لکھنے والی ملازمت اور کاروبار سے وابستہ ہے۔ مہاجر قوم کا ایک جیسا نفسیاتی ردعمل ہے کہ کمزور پر مہربان اور طاقتور کے سامنے چٹان۔

PP متعصب اور بدعنوان لوگوں کا ٹولہ ہے جس نے اپنے متعصبانہ اقدامات سے سندھی اور مہاجروں میں نفرت پیدا کرکے آپس میں دست و گریبان رکھنے کی کوشش کی تاکہ عوام بھٹو کے نام پر انکی لوٹ مار پر توجہ دینے کی فرصت نہ مل سکے۔

پیپلز پارٹی 34 کھرب، 50 ارب کے موجودہ بجٹ کا 50 فیصد بھی سندھ پر خرچ کردے تو سندھ ناصرف پاکستان بلکہ اس ریجن کا سب سے بہترین علاقہ بن سکتا ہے لیکن پیپلز پارٹی 90%کھاجاتی اور 10%لگاتی ہے۔ PPنے لسانیت بھڑکا کر سندھی بھائیوں کو مہاجروں کے خلاف مصروف رکھا ہوا ہے جسکی وجہ سے وہ سندھ میں ترقی نہ ہونے کے باوجود خاموش ہیں۔ آبادی کے حساب سے کراچی کے 35%اور سندھ کی شہری آبادی کے 50%سے سے زیادہ وسائل پر مہاجروں کا حصہ بنتا ہے جس کو ہڑپنے پر مہاجر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

سیکیورٹی کے نام پر نئی نمبر پلیٹ کا اجراء صرف عوام کو لوٹنے کا طریقہ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سیف سٹی کے نام پر PPاربوں روپے ڈکار لئے بغیر ہڑپ کرچکی ہے اور ساڑھے تین کروڑ کے شہر میں 700کیمرے بھی نہیں لگ سکے، اسکے برعکس کراچی سے بہت چھوٹے شہر لاہور میں 8000سے زیادہ جبکہ کابل جیسے شہر میں 90000سے زیادہ کیمرے نصب ہیں، سیف سٹی کے نام پر نمبر پلیٹ کے اجراء سے پہلے کراچی میں قائم کچی آبادیوں کو ختم، کیجئے یا ان آبادیوں میں قانون کی رٹ قائم کیجئے۔

بھٹو کے اصل وارث جونیئر بھٹو کے میدان میں آنے کے بعد PPنے اجرک والی نمبر پلیٹ اس لئے جاری کی کہ بھٹو کا نام چھن جانے کے بعد وہ لسانیت کو ہوا دیکر سندھ کارڈ استعمال کرسکے۔ میرا خیال ہے کہ PPکا چراغ تیزی سے بھڑکنے کی وجہ PPبھی سمجھ رہی ہے اور عوام بھی.

مہاجر قومی موومنٹ سندھ حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ سندھ میں لسانیت بھڑکانے کی بجائے سندھ کے مفاد میں نئی نمبر پلیٹ کے اجراء کی وصول کی گئی فیس عوام کو واپس کی جائے اور آئندہ نمبر پلیٹ تبدیلی کی کوئی رقم نہ لی جائے اسکے علاوہ نفرتیں ختم کرنے کیلئے فوری طور پر نمبر پلیٹ پر اجرک کی تصویر کو اختیاری قرار دیا جائے کہ جو چاہے لگائے جو چاہے نہ لگائے۔

پیپلز پارٹی نے سندھ بھر میں لسانی نفرتوں کو پروان چڑھایا ہے اور پاکستانی پرچم سے زیادہ اجرک کو مقدس بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ سرکاری دفاتر اور اداروں میں کہ جہاں 95%سندھی اٖفسران اور عملہ تعینات ہے وہاں لگے پاکستانی پرچم کے چیتھڑے اڑ رہے ہیں کیا اس پرچم کی بے حرمتی جرم نہیں ہے؟؟ اجرک والی نمبر پلیٹ نہ ہوتو جرم ہے۔

میرے پاس شہر بھر سے اطلاعات آرہی ہیں کہ عوام نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ یکم اگست سے نمبر پلیٹوں پر اجرک کی بجائے پاکستانی جھنڈے پرنٹ کرنا شروع کردیں گے اور 14 اگست تک تمام نمبر پلیٹوں پر اجرک کی جگہ پاکستانی جھنڈا پرنٹ ہوگا۔ میں عوام سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ اگر کوئی نمبر پلیٹ پر اجرک برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے تبدیل کرنے پر مجبور نہ کریں۔ میں حکومت سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر کوئی اجرک کی جگہ پاکستانی پرچم والی نمبر پلیٹ لگاتا ہے اور بارکوڈ کو نہیں چھیڑتا تو ایسے کسی بھی فرد کو تنگ کیا جائے نہ چالان۔اگر ایسا نہ ہوا تو مہاجر قومی موومنٹ جشن آزادی کے بعد ہر ضلع میں پرامن احتجاج کرے گی اور حکومتی رویئے کی روشنی میں احتجاج کومرحلہ وار آگے بڑھاینگے جس میں عوامی رابطہ مہم، دستخطی مہم اور ضرورت پڑنے پر عوامی ریفرنڈم کا انعقاد شامل ہے۔

میں سندھی حکمرانوں، دانشوروں اور عوام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سندھ کا مفاد اسی میں ہے کہ مہاجر جو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ایک علیحدہ قوم ہیں انہیں علیحدہ قومیت تسلیم کیا جائے اور آبادی کے تناسب سے وسائل و اقتدار تقسیم کرکے سندھ کی ترقی کیلئے مشترکہ جدوجہد کی جائے۔ اگر ایسا کرنے کی بجائے مہاجر قوم پر اپنا کلچر تھوپنے اور مہاجر قوم کو فتح کرنے کی کوششیں جاری رہیں تو سندھ کی شہری و دیہی تقسیم کو منطقی انجام تک پہنچنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے وقت قائداعظم محمدعلی جناح ، لارڈ ماؤنٹ بیٹن’ پنڈت نہرو اور موہن داس گاندھی کے درمیان متروکہ سندھ کی دستاویزات پر دستخط ہوئے تھے۔جس میں طے پایا تھا کہ جو سندھ بھر سے ہندو بھارت ہجرت کریں گے انہیں بھارت میں متروکہ املاک دی جائیں گی اور اسی طرح بھارت سے جو ہجرت کرکے مہاجرین آئیں گے توانہیں ہندؤں کی املاک دی جائیں گی۔

اگر سندھی قوم پرست حمیدہ کھوڑوکو ہی میزان بنایا جائے تو انکی کتاب ” کاغذات برائے علیحدگی سندھ از بمبئی ” کےاقتباسات کی روشنی میں مسلم سندھی صرف تیس فیصد زمیں کے حقدار ہیں جبکہ متروکہ سندھ معاہدہ کے تحت 60 فیصد زمین پر مہاجرین کا حق بنتا ہے۔ ساٹھ فیصد سندھ کی زمین تو سو فیصد مہاجر کا قانونی حق ہے جو اس کو تمام تر شواہد اور قانون کے باوجود اب تک نہیں دیا گیا۔

سندھی قوم پرست جھوٹ بولتے ہیں کہ مہاجر وں نے انکی زمین پہ قبضہ کرلیا۔سچ تو یہ ہے کہ مسلم سندھی کسی بڑے شہر میں پہلے رہتا ہی نہیں تھا۔ جب رہتا نہیں تھا ، مالک ہی نہیں تھا تو اس کی زمین پہ قبضہ کیسا۔قیام پاکستان کے بعد سندھ سے تقریبا 37 فیصد ہندؤں نے بھارت کا رخ کیا جبکہ اتنے ہی مہاجر ( بقول سندھی قوم پرست) ہجرت کرکے سندھ پہنچے اسی بناء پر ذوالفقار علی بھٹو نے 40/60 کا کوٹہ اسمبلی سے متعین کروایا تھا ۔

اگر اس چالیس فیصد کوٹہ کو بھی ملحوظ خاطر رکھ لیا جائے تب بھی جنوبی سندھ صوبہ کے قیام کا مطالبہ ہمارا حق ہے کیونکہ یہ ہم اپنی اس زمین پر قائم کرنے کی بات کررہے ہیں جو ہماری اپنی ہے اور جسکا معاہدہ قیام پاکستان کے وقت ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں