کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)محتسب اعلیٰ سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے محتسب کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کے خلاف کڑے احتساب (قانونی کاروائی ) کا فیصلہ کر لیا۔گورنر سندھ،وزیر اعلیٰ سندھ ،صوبائی وزیر بلدیات،چیف سیکرٹری سندھ، انسپیکٹر جنرل سندھ پولیس سندھ کو فیصلے پر عملدرآمد کے لئے لیٹر لکھ دیا۔
محتسب اعلیٰ کےایڈوائزر (ایف) سید علی ممتاز زیدی کے دستخط سے جاری لیٹر میں ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ڈپٹی کمیشنر ساؤتھ، ایس ایس پی ساؤتھ کو گزشتہ روز لکھے گئے خط میں مورخہ 29 نومبر 2024 کو غیر قانونی ، خطرناک قرار دی گئی بلڈنگ کو گرانے کے فیصلے پر فوری عمل درآمد یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ ایس بی سی اے کی ٹیکنیکل کمیٹی برائے ڈینجرس بلڈنگ کی جانب سے تین سال قبل خطرناک قرار دی گئی بلڈنگ کو نہ گرانے میں ایس بی سی اے، ڈپٹی کمیشنر ساؤتھ اے سی سول لائن نے صوبائی محتسب کے احکامات کی مسلسل حکم عدولی کی غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی اور خطرناک بلڈنگوں کو گرانے سے روکے رکھا۔جسکے باعث ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے علاقوں بغدادی کھادر اور دیگر علاقوں میں بلڈنگیں گرتی چلی گئی اور ناقابل تلافی انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ واضع رھے کہ گذشتہ ماہ صوبائی محتسب نے سابقہ ڈی جی ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو اور تمام ڈائریکٹریز کو اپنے دفتر طلب کرکے واضح اور کھلا پیغام دیا تھا کہ شہر میں خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو انسانی جانوں کے تحفظ کی خاطر فوری طور پر سیلڈ کرکے بلا تاخیر گرایا جائے۔مبینہ طور پر ایس بی سی اے کے سابقہ ڈی جی کی پیشہ وارانہ کوتاہی غفلت لاپرواہی کے باعث بغدادی سمیت دیگر علاقوں میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا کھارادر اور بغدادی سمیت کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئی ۔واضح رھے کہ صوبائی محتسب اعلیٰ سندھ نے اپر گزری کے علاقے مچھی پاڑہ گزری میں پلاٹ نمبر 330/330A پر سات منزلہ بلڈنگ کو ایس بی سی اے کے اعلیٰ افسران کے دستخط سے جاری رپورٹ کے مطابق تین سال قبل غیر قانونی اور رہائش کے لیے خطرناک قرار دیا تھا سات منزلہ بلڈنگ انتہائی مخدوش ہوچکی ہےمبینہ طور پر ایس بی سی اے نے غیر قانونی بلڈر محمد معروف کشمیری کو ( لائیسنس ٹوکل دے رکھا ) ہے۔جعلی بلڈر پی اینڈ ٹی کالونی گزری میں بھی ڈپٹی ڈائریکٹر ساؤتھ آغا کاشف کی سرپرستی میں درجنوں غیر قانونی بلڈنگیں بنانے میں ملوث ہے اور اینٹی کرپشن کی ایک انکوائری کا نامزد ملزم ہے جسے اینٹی کرپشن حکام نے بھی کرپشن کرکے کھلی جھوٹ دے رکھی ہے۔


