48

تاجروں کی حکومت سےمذاکرات میں پیش رفت،ہڑتال 30 دن کے لیے مؤخر

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)منگل کے روز حکومت نے فنانس ایکٹ 2025 کے سیکشن 37A سے متعلق تاجر برادری کے تحفظات دور کرنے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے پر رضامندی ظاہر کی، جس کے بعد تاجروں نے ملک گیر ہڑتال 30 دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں اور کاروباری ایسوسی ایشنز کے نمائندے شریک ہوئے۔وزیر خزانہ نے تاجر برادری کو یقین دلایا کہ حکومت کا مقصد ٹیکس چوری کی روک تھام ہے، نہ کہ ایماندار تاجروں کو ہراساں کرنا۔

مذاکرات کو مؤثر بنانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کی سربراہی وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان کریں گے۔

اس کمیٹی میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے تجارتی کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل خان، ایف بی آر کے چیئرمین اور تاجروں کے منتخب نمائندے شامل ہوں گے۔یہ کمیٹی آئندہ 30 دن کے دوران تفصیلی مشاورت کے بعد ایک اتفاق رائے پر مبنی سفارش وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو پیش کرے گی۔

اجلاس میں تاجر نمائندوں نے سیکشن 37A اور اس کے اثرات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ حکومت نے ان تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ ایماندار کاروباروں پر کوئی غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔فی الحال ہڑتال کی کال معطل کر دی گئی ہے اور یہ کمیٹی کے کام مکمل ہونے تک مؤخر رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں