کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی حکومت اور حکومت سندھ میں پاک پی ڈبلیو پی کے منصوبوں کو سندھ حکومت کے حوالے کرنے کا معاملہ حل نہ ہوسکا-گذشتہ مالی سال میں وفاقی حکومت نے پاک پی ڈبلیو پی کو ختم کرکے منصوبے صوبوں کو منتقل کئے-چاروں صوبوں کے 103 منصوبے تھے جن میں پنجاب کے 29 ، خیبرپختونخواہ کے 12 اور بلوچستان کے 35 منصوبے ان ہی صوبوں کو دے دیئے گئے-
سندھ کے 27 منصوبے حکومت سندھ کے حوالے کرنے کے بجائے وفاقی وزارت ہاؤسنگ کو دے دیئے گئے-بجٹ سے پہلے وزیر اعلیٰ سندھ نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کو خط لکھ کر یہ منصوبے حکومت سندھ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا-نائب وزیر اعظم نے یہ منصوبے حکومت سندھ کے حوالے کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر بجٹ کی کتابوں میں یہ منصوبے وفاقی وزارت ہاؤسنگ کو دے دیئے گئے-
پنجاب کے29منصوبوں پر12ارب 38 کروڑ روپے،خیبرپختونخوا کے12 منصوبوں پر2ارب 6 کروڑروپےمنتقل کئےگئےہیں-بلوچستان کے 35 منصوبوں پر 4 ارب 76 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں سندھ کے 29 منصوبوں کے 15 ارب روپے حکومت سندھ کے دینے کے بجائے وفاقی وزارت ہاؤسنگ کو دے دیئے گئے-


