کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جناح اسپتال میں رواں سال 12 ارب روپے بجٹ میں اضافہ کے باوجود مریضوں کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔جناح اسپتال میں سی ٹی اسکین کنٹراس اور ایم آر آئی کنٹراس کی سہولت نہ ہونے کے باعث مریض دربدر ہونے لگے-سندھ کے مختلف شہروں سے آنے والے غریب مریض پرائیویٹ لیبارٹریوں سے مہنگے ٹیسٹ کرانے پر مجبور ہیں، محکمہ صحت نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔
جناح اسپتال کراچی میں روزانہ سینکڑوں مریضوں کو ڈاکٹرز ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین کنٹراس لکھ کر دیتے ہیں۔یہ سہولت اسپتال میں نہ ہونے کی وجہ سے آنے والے غریب مریض پرائیویٹ لیبارٹریوں سے مہنگے داموں ٹیسٹ کرانے پر مجبور ہیں۔پرائیویٹ لیبارٹریوں کی جانب سے سی ٹی اسکین کنٹراس کے لیے 25 ہزار سے 40 ہزار روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی بہترین صحت سہولیات کے دعوے جھوٹے نکلے، کئی مریضوں کو دنوں بعد بلا کر کہا جاتا ہے کہ کنٹراس دوا باہر سے لا کر دیں۔
سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی کنٹراس مریض کی حالت انتہائی سنگین ہونے پر کرایا جاتا ہے۔کئی سالوں سے کنٹراس میں استعمال ہونے والی دوا اسپتال میں دستیاب نہیں ہے۔ہمارے پاس کنٹراس کی دوا موجود نہیں، اسپتال انتظامیہ کا مؤقف۔


