اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)ہائی کورٹ نے نیشنل کاؤنٹر سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو منظور کرتے ہوئے 21 یوٹیوب چینلز کو فوری طور پر بلاک کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ان چینلز پر الزام ہے کہ وہ ریاستی اداروں اور ان کے افسران کے خلاف جھوٹی، گمراہ کن اور اشتعال انگیز معلومات پھیلا رہے تھے۔
عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، یہ یوٹیوب چینلز عوام میں خوف، بدامنی، اور انتشار پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے، اور ان کا مواد ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا تھا۔ عدالت نے سائبر کرائم سرکل اسلام آباد کی انکوائری (ریفرنس نمبر RE-717/2025) کے تحت دی گئی سفارشات کو تسلیم کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ان چینلز کی فوری بندش کا حکم جاری کر دیا۔
درخواست میں بتایا گیا تھا کہ یہ چینلز “انتہائی اشتعال انگیز، توہین آمیز اور جھوٹا مواد” شیئر کر رہے ہیں جو ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ اس اقدام کو “پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ” (PECA) کی دفعہ 37 کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔
عدالت کی منظوری کے بعد جن یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، ان میں درج ذیل شامل ہیں:
1. حیدر مہدی
2. صدیق جان
3. صبیح کاظمی
4. اوریا مقبول جان
5. ارضو کاظمی
6. رانا ازیر اسپیکس
7. ساجد گوندل
8. حبیب اکرم
9. مطیع اللہ جان MJTV
10. اسد طور اَن سینسرڈ
11. عمران ریاض خان
12. نیا پاکستان
13. صابر شاکر
14. عمران خان
15. آفتاب اقبال
16. ریئل انٹرٹینمنٹ ٹی وی
17. پاکستان تحریکِ انصاف
18. ڈیلی قدرت
19. عبدالقادر
20. چارسدہ جرنلسٹ
21. نائلہ پاکستانی ریاکشن
اس عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کئی حلقوں نے اسے آزادی اظہارِ رائے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، جبکہ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی اور اداروں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔


