لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)بارڈر سے سمگل شدہ گاڑیوں کو امپورٹ شدہ گاڑیاں قرار دے کر فرضی آکشن شو کروا کر دو سو گاڑیوں کو رجسٹر کروا دیا گیا-نہ اشتہار جاری ہوئے،نہ آکشن ہوئی اور نہ ڈیوٹی جمع ہوئی-قومی خزانے کو اربوں روپے کا چونا لگا دیا گیا-تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ جب بھی کوئی گاڑی بیرون ملک سے امپورٹ کی جاتی ہے تو وہ کراچی پورٹ پر آتی ہے-
اگر امپورٹ کرنے والا شخص مقررہ مدت میں ڈیوٹی پے نہ کر سکے تو کسٹم ڈیپارٹمنٹ گاڑی کی آکشن کا اشتہار دیتے ہیں،پھر آکشن کی جاتی ہے اور جو اس کی ڈیوٹی پے کرکے مطلوبہ رقم ادا کرتا ہے تو گاڑی اس کو دے جاتی ہے اور متعلقہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس کو کہا جاتا ہے کہ گاڑی رجسٹر کر دی جائے کیونکہ ڈیوٹی پے ہو چکی ہے-
لیکن اطلاعات کےمطابق ڈی جی ریفارمز،ایڈیشنل کلکٹرسمیت چارافراد نے بارڈر سے سمگل شدہ دو سوگاڑیوں لیں اور شو کیا کہ یہ امپورٹ ہوکرآئی ہیں لیکن ان کی ڈیوٹی پےنہیں کی جا سکی،اس لیےان کی آکشن کردی گئ ہے،ڈیوٹی پےہوچکی،اس لیے متعلقہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس کو کہا گیا کہ ان گاڑیوں کو رجسٹر کر لیا جائے اور حیران کن طور پر ان دو سو گاڑیوں کو رجسٹر کر لیا گیا ہے-
یہ دو سو گاڑیاں امپورٹ ہو کر نہیں آئیں تھیں بلکہ یہ افغانستان کے بارڈر سے سمگل ہو کر آئی تھیں،قومی خزانے کو اربوں روپے کا چونا لگا دیا گیا ہےالزامات لگ رہے ہیں کہ اس سب کے پیچھے ایک بہت بڑی شخصیت ہیں اور اس اسکینڈل کو دبا دیا جائے گا-اس سے پہلے جعلی ایل سیز کے ذریعے آٹھ ہزار کنٹینرز امپورٹ ہونے کا انکشاف بھی ہوا لیکن کوئی کارروائی نہ ہوئی-اسی طرح سی پورٹ سے ڈرائی پورٹ جانے والے سات سو کنٹینرز کے جی ڈی پرمٹ اور مکمل ریکارڈ تبدیلی کا بھی انکشاف ہوا لیکن کچھ نہ ہوا-اطلاعات کے مطابق ان تینوں اسکینڈلز میں ایک ہی ٹیم ملوث ہے-


