کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)حکومتی خزانے کو اربوں کا نقصان اور شہر کا انفراسٹرکچر تباہ کرنے والی مافیا کیخلاف قومی احتساب بیورو(نیب) حرکت میں آگیا،شہر کے رفاعی اور رہائشی پلاٹوں پر مبینہ بھاری نذرانوں کے عیوض تعمیر کرائے گئے شادی ہالز،بینکویٹس کیخلاف بڑی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور بلدیہ عظمی کراچی کے افسران ریڈار پر آگئے،غیر قانونی شادی ہالز بنائے جانے کی شکایات پر نیب نے ڈی جی ایس بی سی اے اور کے ایم سی افسران کو کال اپ نوٹس جاری کرکے3 جولائی کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا ۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق شہر قائد میں رہائشی اوررفاعی پلاٹوں پر مبینہ بھاری نذارنوں کے عیوض شادی ہالز اور، بینکویٹس تعمیر کرنے والوں کی شامت آگئی ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ غیر قانونی تعمیرات کیخلاف قومی احتساب بیورو (نیب) حرکت میں آگیا ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ بڑی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور بلدیہ عظمی کراچی کے افسران نیب کے ریڈار پر آگئے ہیں اور اس سلسلے میں دونوں اداروں کے حکام سے غیر قانونی شادی ہالز کا ریکارڈ طلب کرلیا گیا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے رہائشی اور رفاعی پلاٹوں کے ساتھ ساتھ کمرشل پلاٹوں پر بھی قواعدوضوابط کیخلاف شادی ہالز کی تعمیرات کا بھی نیب نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہے،واضح رہے کہ چند سال قبل شہر میں رہائشی پلاٹوں پر بنائے گئے شادی ہالز کیخلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں تھیں ،تاہم ایک مرتبہ پھر بڑے رہائشی پلاٹوں پر شادی ہالز اور بینکویٹس تعمیر کرلئے گئے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے افسران کی مبینہ آشیرباد اور چشم پوشی کے باعث رہائشی اور رفاعی پلاٹوں پر شادی ہالز اور بینکوئٹس تعمیر کئے گئے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے دیگر علاقوں کی طرح کے ڈی اے اسکیم36 گلستان جوہر کے ہل روڈ پر دودرجن سے زائد رہائشی پلاٹس کو شادی ہالز ، بینکویٹس اورریسٹورنٹس میں تبدیل کردیا گیا ہے جس کے باعث ایک جانب حکومتی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان اٹھا نا پڑا ہے وہی شہر کا انفراسٹرکچر بھی بری طرح متاثر ہوکر رہ گیا ہے،اسی طرح شہر کے دیگر علاقوں میں بھی رہائشی ،رفاعی پلاٹوں پر غیر قانونی طور پر شادی ہالز بینکوئٹس تعمیر کئے گئے ہیں ،قومی احتساب بیورو نیب کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کئے جانے کے بعدمذکورہ غیر قانونی بینکوئٹس اور شادی ہالز تعمیر کرکے شہر کا انفراسٹرکچر تباہ کرنے والے عناصر کیخلاف جلد بڑی کارروائی کا امکان ہے-
31


