47

شام پرعائد پابندیوں کوختم کرنے کیلئے امریکی صدر نے ایگزیکٹیوآرڈرپردستخط کردیئے

واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے شام پر عائد امریکی اقتصادی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے۔ اس فیصلے سے نہ صرف شام کی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی دوبارہ ممکن ہو گئی ہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی اور اقتصادی کشیدگی میں بھی ایک نیا موڑ آیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے شام پر یہ پابندیاں سن 2004 میں عائد کی تھیں، جن کے تحت شام کے مرکزی بینک سمیت کئی ریاستی اداروں کو بین الاقوامی لین دین سے روک دیا گیا تھا۔ یہ پابندیاں شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں کے خلاف اقدام کے طور پر نافذ کی گئی تھیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا کو بتایا کہ یہ اقدام شام میں “استحکام، امن اور تعمیرِ نو کی حمایت” کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق، اس فیصلے سے شام میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور عام شہریوں کو ریلیف ملے گا۔

اگرچہ عمومی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، تاہم سابق صدر بشار الاسد، ان کے قریبی حلقے، داعش، ایرانی حمایتی گروپس اور کیمیائی ہتھیاروں سے وابستہ افراد پر پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔

شامی وزیر خارجہ نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں ہٹنے سے ملکی معاشی بحالی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی

اپنا تبصرہ بھیجیں