46

امریکی سینیٹ میں اسوقت ایک بہت بڑے مالیاتی بل پر بحث ہورہی ہے

واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو)صدر ٹرمپ اسے Big Beautiful Billقرار دے رہے ہیں۔ اسکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کریں- کہ گزشتہ 22 گھنٹے سے سینیٹ کا اجلاس بلا توقف جاری ہے- اور سو کے سو سینٰیٹر اپنی نشستوں پر بیٹھے ہیں۔

معاشیات کے باب میں ہمارا علم صفر سے بھی کچھ درجہ نیچے ہے- اسلئے بل کے حسنات یا مضمرات پر تبصرہ مشکل ہے۔ تاہم مخالفین کہہ رہے ہیں بل میں امرا کیلئے ٹیکس میں جو چھوٹ تجویز کی گئی ہے- اس سے امریکہ پر واجب الادا قرض میں اگلے دس سالوں کے دورن 3ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ہوجائیگا اور خرچ کم کرنے کیلئے جو اقدامات کئے جایننگے اسکے نتیجے میں ایک کروڑ 20 لاکھ ضعیف افراد سرکاری انشورنس (Medicaid)سے محروم ہوجائینگے۔

اس بل کی منظوری کیلئے صدر ٹرمپ خود متحرک ہیں اور انھوں نے دھمکی دی ہے کہ جس سینیٹر نے اسکی مخالفت میں ہاتھ بلند کیا وہ آنے والے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ٹکٹ حاصل نہیں کرسکے گا-یعنی پرائمری انتخابات میں صدر صاحب بنفس نفیس اس رکن کے خلاف تحریک چلائینگے۔

اس دھمکی پر ریاست شمالی کیرولینا کے سینیٹر ٹام ٹلسن نے اعلان کیا کہ وہ بل کی مخالفت جاری رکھیں گے اور اگلے برس ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لینگے۔

صدر ٹرمپ کے مقابلے پر ایلون مسک بھی کمر کس کر میدان میں آگئے ہیں اور جوابی دھمکی دی کہ جس رپبلکن سینٹر نے اس تباہ کن بل کے حق میں ووٹ اسے پرائمری میں ہرانے کیلئے وہ ایڑی سے چوٹی کا زور لگادینگے۔ اس پر ٹرمپ صاحب تڑخ کر بولے-ایلون مسک کو اس بل سے شکائت یہ ہے کہ اس میں ٹیسلاکیلئے کیلئے مراعات یا سبسڈی نہیں رکھی گئی ہے- اور سبسڈی بند ہوتے یہ ایلون مسک اپنی دوکان بند کر اپنے آبائی وطن جنوبی افریقہ بھاگ جائیگا-

اپنا تبصرہ بھیجیں