ممبئی(ایچ آراین ڈبلیو)بھارت میں ستر اور اسی کی دہائی میں آرٹ فلموں کا دور تھا، نصیرالدین شاہ، اوم پوری، شبانہ اعظمی اور سمیتا پاٹیل اورکئی دوسرے اداکار نظریاتی طور پر “با مقصد” فلموں کے پرچارک تھے، انہیں دنوں ، اسی کی دھائی میں “میرا نائر” ہارورڈ یونیورسٹی میں بصری علوم پڑھ رہی تھیں،میرا نائر کے والد سکھ تھے والدہ ہندو تھیں، ہارؤرڈ سے پڑھ کر دستاویزی فلمیں بنانا شروع کیں اور آگے جا کر ہدایتکار اور فلم ساز بن کر ایوارڈ یافتہ فلمیں جیسے کہ Mississippi Masla, Monsoon Wedding , Salam bonbay بنائیں اور کی ہدایتکاری کی-
پنجابی سکھ والد اور ددھیال ، ہندو والدہ کی بیٹی میرا نائر کی اس دوران یوگنڈا میں کمپالا یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد, ہندوستانی گجرات کے ایک مسلمان, “محمود ممدانی” سے شادی ہوگئی-
دونوں میاں بیوی کے سیاسی اور سماجی رحجانات کا اثر ان کے بیٹے پر بھی ہوا جو والد کے ساتھ امریکہ ہجرت کر گیا اور 2018 میں امریکی شہریت لی اور تعلیم کے بعد سوشلسٹ سیاست شروع کر دی- انہیں میرا نائر کا بیٹا “زہران ممدانی” اب نیو یارک کا پہلا مسلمان، پہلا ایشیائی اور پہلا افریقی میئر بننے جا رہا ہے اور اپنے سوشلسٹ اور غیر روایتی امریکی سیاسی رحجانات کے باوجود بننے جا رہا ہے ، ریپبلیکن نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی مخالفت کی بناء پر پابندی کا مطالبہ کردیا-


