44

تہران میں اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہونے والے 60 افراد کی سرکاری تدفین

تہران(ایچ آراین ڈبلیو)ایران میں آج بروز ہفتہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہونے والے تقریباً 60 افراد، جن میں اعلیٰ فوجی کمانڈر بھی شامل ہیں، کی سرکاری سطح پر تدفین کر دی گئی۔ اس موقع پر ایران کے وزیر خارجہ نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے متعلق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ تبصروں کو ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے علی خامنہ ای کو ایک ’بری‘ اور ’ذلت آمیز‘ موت سے بچایا تھا۔

تقریب کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے دارالحکومت تہران میں ہوا، جب کہ اس موقع پر سرکاری دفاتر اور کئی کاروباری مراکز بند رہے۔ تقریب میں ہزاروں افراد نے سیاہ لباس پہن کر ایرانی پرچم لہرائے۔ انہوں نے ہلاک ہونے والے فوجی کمانڈروں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ صدر مسعود پزشکیان، اعلیٰ سرکاری و عسکری حکام، اور بیرون ملک آپریشنز کے نگران پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی نے بھی شرکت کی۔

سپریم لیڈر کے مشیرِ اعلیٰ علی شمخانی بھی، جو جنگ کے دوران زخمی ہوئے تھے، تقریب میں لاٹھی کے سہارے شریک ہوئے۔ انقلاب اسکوائر پر منعقدہ تقریب میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ماڈل اور پرچم میں لپٹے تابوت بھی دکھائے گئے جن پر مارے جانے والے فوجی کمانڈروں کی وردی میں تصاویر آویزاں تھیں۔
ایرانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں میں کم از کم 627 ایرانی شہری ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں