44

مخصوص نشستوں کی بحالی کا کیس، 13 رکنی بنچ کا فیصلہ 12 رکنی بنچ نے کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلی بار آئینی بنچ نے ایک ایسا فیصلہ دے دیا ہے جس میں‌13 رکنی بنچ کا فیصلہ 12 بنچ کر کے اپنے ہی فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس 12 رکنی بنچ میں وہ ججز کی تعداد بھی شامل نہیں جو 13 رکنی بنچ میں شامل تھی

نئے فیصلہ کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنا گزشتہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، مخصوص نشستیں ، ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی سمیت دیگر جماعتوں کو ملیں گی،

پنجاب اسمبلی کی 24 خواتین اور 3 اقلیتی ارکان، خیبر پختونخواہ کی 21 خواتین ارکان 4 اقلیتی ارکان اور سندھ اسمبلی کی دو خواتین ایک اقلیتی رکن بحال کر دی گئیں

قومی و صوبائی 77 مخصوص نشستیں بحال، حکومتی اتحاد میں 77 نشتیں تقسیم کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال کر دیا گیا،تحریکِ انصاف مخصوص نشستوں سے محروم،تمام سیٹیں پی ٹی آئی سے چھین لی گئیں

8 ججز کے 12 جولائی کی اکثریت فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا، نظرثانی منظور، 7-5 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا، فیصلہ کے دن بنچ کے رکن جسٹس صلاح الدین پنہور نے بنچ سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، قرین قیاس یہی تھا کہ وہ بھی بحالی سے متعلق غیر رضامند تھے

اس فیصلہ سے حکومتی اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی اور اب آئینی ترامیم میں اب اپوزیشن کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں