واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو)ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے پس پردہ حالات سے پردہ اٹھایا ہے۔ ذریعے نے آج بدھ کے روز بتایا کہ فرانس نے ایران کو جنگ بندی کی وہ شرائط پہنچائیں جو امریکہ نے تجویز کی تھیں۔ یہ اقدام واشنگٹن کی درخواست پر اس وقت کیا گیا جب تل ابیب اور تہران کے درمیان جنگ بندی سے کچھ گھنٹے قبل کی صورت حال تھی۔
ذرائع کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کی شام اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں نوئیل بارو سے رابطہ کیا تاکہ انھیں اس امریکی خواہش سے آگاہ کیا جا سکے کہ جنگ بندی اس شرط پر ہو کہ ایران امریکی حملوں کا جواب نہ دے۔
مزید بتایا گیا کہ روبیو نے ژاں نوئیل بارو سے درخواست کی کہ یہ معلومات ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی تک پہنچائی جائیں۔ فون کال کے بعد فرانسیسی وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا اور امریکیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات اور شرائط انھیں پہنچائیں۔
اس کے بعد عراقچی نے “ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری رکھنے” پر آمادگی ظاہر کی، جن میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہوں گے۔ اس بات چیت کے بعد جنگ بندی نافذ ہو گئی۔ یہ بات فرانسیسی خبر رساں ادارے “فرانس پریس” کے حوالے سے اس سفارتی ذریعے نے کہی۔
“قطر نے ایران کو رضامند کیا”
مذاکرات سے با خبر ایک ذریعے نے بتایا کہ قطری وزیر اعظم نے ایران کو اس جنگ بندی پر آمادہ کیا جو امریکہ نے تجویز کی تھی۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران کے میزائلوں نے دوحہ کے قریب ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔
اسرائیل نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان پر اپنی رضامندی ظاہر کر دی، اور کہا کہ وہ تہران کے ساتھ 12 روزہ جنگ میں اپنے تمام مقاصد حاصل کر چکا ہے، جن میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل تھا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس نے ایرانی فوجی کمانڈروں کو ہلاک کیا۔
ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کی تردید کرتا ہے۔
یہ جنگ 13 جون کو ایران پر اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی، جب کہ چند دن بعد عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان چھٹے دور کے جوہری مذاکرات متوقع تھے


