کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ اسمبلی نے 156 ارب روپے سے زائد کا رواں مالی سال کا ضمنی بجٹ منظور کر لیا۔ وزیر اعلی سندھ نے ایوان میں 84 مطالبات زر پیش کیئے جبکہ حزب اختلاف کی 735 کٹوتی کی تحاریک مسترد ہوگئیں۔ تفصیلات خاور حسین کی رپورٹ میں۔
اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ضمنی بجٹ پیش کیا۔ مختلف سرکاری محکموں کے مطالبات زر ایک ایک کرکے وزیر اعلی سندھ نے ایوان میں پیش کیئے ، وزیر اعلی سندھ نے کل 84 مطالبات زر پیش کیئے۔
ساٹ وزیر اعلی۔
اپوزیشن ارکان نے ضمنی بجٹ کے بیشتر مطالبات کی مخالفت کی اور مطالبات کے خلاف کٹوتی کی تحاریک پیش کیں۔ اپوزیشن کے مظاہر احمد راشد خان عبد الباسط ، جمال احمد ، شبیر قریشی ، طحہ احمد اور اور دیگر نے اپنی کٹوتی کی تحاریک پیش کی ، حکومت نے کٹوتی کی تمام تحاریک کی مخالفت کی جس بنیاد نے اسپیکر اویس قادر شاہ نے 735 تحاریک کو مسترد کردیا۔
ساٹ اسپیکر ، مظاہر خان۔ راشد خان
اسپیکر اویس قادر شاہ نے ایک موقعہ پر کہا کہ تمام تحاریک کو یکجا کرکے پیش کیا جائے ، جس پر اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ تمام ممبران نے محنت کی ہے انہیں ایک ایک کرکے تحاریک پیش کرنے کی اجازت دی ،سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپوزیشن لیڈر کی تجویز کی مخالفت کردی۔
ساٹ علی خورشیدی۔ شرجیل میمن۔
سندھ اسمبلی نے 156 ارب 69 لاکھ روپے کا ضمنی بجٹ منظور کر لیا، اجلاس بدھ کے روز 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔


