تہران(ایچ آراین ڈبلیو)ابھی کچھ دیر پہلے ایران نے اسرائیل پر ایک بار پھر شدید میزائل حملہ کیا ہے۔ اس بار تقریباً 30 میزائل داغے گئے جن میں سے 10 میزائلوں نے براہِ راست اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں کئی حساس اور اسٹریٹجک مقامات شامل ہیں، جب کہ متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ابتدائی طور پر 40 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ زخمیوں کی تعداد آئندہ چند گھنٹوں میں تین سے چار گنا بڑھ سکتی ہے۔
آج کا یہ حملہ تیسری بار ہے جب ایران نے اسرائیل کو نشانہ بنایا:
1. پہلی بار ایک ڈرون حملہ کیا گیا،
2. دوسری بار تین میزائل داغے گئے،
3. اور اب تیسری بار تقریباً 30 راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔
مجموعی طور پر آج ایران کے 50 فیصد میزائلوں نے براہ راست ہدف کو نشانہ بنایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کا دفاعی نظام “آئرن ڈوم” ان میں سے نصف راکٹوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ مختلف ذرائع سے حاصل شدہ تصاویر اور اعداد و شمار کے مطابق، آئرن ڈوم کی کامیابی کی شرح بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ جہاں پہلے یہ نظام 90 فیصد راکٹوں کو روکنے میں کامیاب ہوتا تھا، اب یہ شرح مسلسل گھٹ رہی ہے، جو اسرائیل کے دفاعی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔


