48

فلسطینی مہاجرین کا واحد حل اپنے گھروں کو واپسی میں ہے،حماس کا موقف

فلسطین(ایچ آراین ڈبلیو)عالمی یومِ مہاجرین کے موقع پر حماس کا مؤقف: فلسطینی مہاجرین کا واحد حل صرف اور صرف قابض صہیونی ریاست کے خاتمے اور ان کی اپنے گھروں کو واپسی میں ہے

ہم اقوامِ عالم، بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قابض صہیونی قیادت کو انسانیت کے خلاف اپنے جرائم پر عدالت کے کٹہرے میں لائیں، جارحیت و قبضے کا خاتمہ یقینی بنائیں، اور اس نسل پرست و فاشسٹ ریاست کو عالمی امن کے لیے ایک خطرہ سمجھ کر دنیا سے الگ تھلگ کریں۔

عالمی یومِ مہاجرین ایسے وقت میں آیا ہے جب صہیونی دشمن غزہ میں ہمارے عوام کے خلاف نسل کشی، قحط اور اجتماعی تباہی کی جنگ کو شدت سے جاری رکھے ہوئے ہے، اور روزانہ کی بنیاد پر مہاجرین و نازحین پر مجرمانہ حملے کر رہا ہے۔ امداد کے طلبگاروں کو دانستہ طور پر قتل کے جال میں دھکیلا جا رہا ہے، اور امریکی-صہیونی نگرانی میں چلنے والے امدادی مراکز کو شہادت گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ سب مظالم بین الاقوامی قوانین، انسانی ضوابط اور اخلاقی اصولوں کی کھلی پامالی ہے۔

اس موقع پر اسلامی مزاحمتی تحریک “حماس” درج ذیل مؤقف پیش کرتی ہے:

اوّل: دنیا بھر میں عالمی یومِ مہاجرین منایا جا رہا ہے، جب کہ غزہ میں لاکھوں مہاجرین نسل کشی اور قحط کے بدترین حالات میں ہیں۔ یہ بین الاقوامی برادری پر ایک اخلاقی، قانونی اور سیاسی ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ فلسطینی مہاجرین پر جاری صہیونی مظالم کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے، چاہے وہ غزہ کے مہاجر کیمپ ہوں یا مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے۔

دوم: مغربی کنارے کے مہاجر کیمپوں پر قابض فوج کے مسلسل حملے، انہدام اور جبری بے دخلی، نہ صرف ایک مجرمانہ طرزِ عمل ہے بلکہ مہاجرین کے وجود کو مٹانے کی ایک خطرناک سازش ہے۔ یہ کوششیں ہماری قومی شناخت کو مٹانے کا آغاز ہیں، مگر ہمارا عوام اس ناپاک منصوبے کے خلاف چٹان کی طرح کھڑا ہے۔

سوم: مہاجرین کی اپنے آبائی گھروں کو واپسی کا حق، انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی — یہ حق بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے۔ ہم اس حق سے کسی قسم کی دستبرداری، سودے بازی یا سمجھوتے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

چہارم: ہم امریکا کی پشت پناہی سے اقوامِ متحدہ کی ریلیف ایجنسی “اونروا” کو ختم کرنے، اس کے دائرۂ کار کو محدود کرنے یا اس کی ذمہ داری کسی اور کو منتقل کرنے کی تمام کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ اونروا ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، اور اسے مہاجرین کی خدمت، امداد کی تقسیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کی مکمل ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔

پنجم: فلسطینی مہاجرین کی طویل المیعاد مصیبت کا بنیادی سبب صہیونی قبضہ، جبری بے دخلی، اور نسل پرستانہ پالیسیاں ہیں جو 75 برس سے زائد عرصے سے جاری ہیں۔ لہٰذا مہاجرین کا مسئلہ صرف قابض ریاست کے زوال سے ہی حل ہو سکتا ہے۔

ہم اپنے عظیم شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں، اور اپنے بہادر قیدیوں کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ ہم پوری قوم، فلسطینی مہاجرین اور مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں کہ وہ صبر و ثبات کے ساتھ اپنی سرزمین اور حقوق کے دفاع میں سرگرم ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں