چین(ایچ آراین ڈبلیو)ممتاز تھنک ٹینک “سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن” کے نائب صدر اور بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری اثاثوں پر اسرائیل کے حملے واضح طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ عرب ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی یہ یکطرفہ جنگ مشرقِ وسطیٰ کے امن کو شدید خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “اسرائیل نے ایک خودمختار ریاست، ایران، کی علاقائی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ ایرانی فوجی و سرکاری اہلکاروں پر حملے، اور ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا، بین الاقوامی قوانین کے منہ پر طمانچہ ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا خود ایٹمی ہتھیار بنانا، عالمی قوانین کو نظر انداز کر کے ایران پر الزامات دھرنا، اور خود ساختہ دفاع کے نام پر جنگی مہم جوئی کرنا کھلی منافقت اور دوہرے معیار کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا:
“اگر مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام لانا ہے تو اسرائیل کو سب سے پہلے جوہری طور پر غیر مسلح ہونا ہوگا۔”
وکٹر گاؤ نے چین کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کو مکمل تحفظ دیتا ہے۔ “ہم نہ صرف اسرائیل کی اس جارحیت کو مسترد کرتے ہیں بلکہ اسے بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تصور کرتے ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ چین کسی ملک کی جانب سے کسی دوسرے ملک پر یکطرفہ، بلا اجازت اور غیر قانونی پابندیاں تسلیم نہیں کرتا۔
چینی صدر شی جن پنگ کی تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے وکٹر گاؤ نے کہا کہ “چینی قیادت اسرائیل کے حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع پر فطری طور پر پریشان ہے، اور ایران اسرائیل جنگ کے بڑھتے ہوئے دائرے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔”
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر اسرائیل اپنے جوہری ہتھیار ختم کرے، تو خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی مثال قائم ہوگی۔ ان کے مطابق، اسرائیل نے امریکی ثالثی کے دوران ایران پر حملہ کر کے سفارتی عمل کو سبوتاژ کیا ہے، جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
وکٹر گاؤ کے الفاظ درحقیقت ایک عالمی ضمیر کی پکار ہیں — جب مشرقِ وسطیٰ کے جلتے ہوئے منظرنامے میں امن کی آخری شمع بجھتی دکھائی دے رہی ہو تو بیجنگ سے آنے والی یہ گونج عالمِ اسلام اور دنیا بھر کے انصاف پسندوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ اسرائیل کی یکطرفہ ایٹمی جارحیت اور دوغلی پالیسیوں کے خلاف چین کی اخلاقی پوزیشن بین الاقوامی برادری کو ایک واضح آئینہ دکھا رہی ہے۔ سوال اب صرف یہ ہے کہ دنیا کب جاگے گی؟


