51

ایران میں پھنسے کشمیری طلبہ کے والدین کی وزیراعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید

سری نگر(ایچ آراین ڈبلیو)ایران میں پھنسے کشمیری طلباء کے والدین اور اہلخانہ نے اپنے بچوں کو فوری طورپر واپس لانے یا ایران میں محفوظ مقامات پر منتقلی کیلئے اقدامات کرنے میں ناکامی پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر پر کڑی تنقید کی ہے۔

کشمیری طلبہ کےوالدین اوراہلخانہ ایران میں اپنےبچوں کی خیریت دریافت کرنےکیلئے دن بھر میں متعدد بار اُنہیں ٹیلی فون کرتے ہیں ۔ایران میں پھنسے ہوئے کشمیری طلباء نے سرینگر میں ٹیلی فون پر میڈیا کوبتایا کہ پاکستان اور عرب ممالک کے طلبہ کو ایران سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے،جبکہ مودی حکومت نے اُنہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور ایران میں بھارتی سفارت خانہ ان کی سکیورٹی کو یقینی بنانے اور انخلاء کیلئے کوئی اقدام نہیں کر رہا ہے ۔ایران کی کرمان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں زیرتعلیم 21 سالہ کشمیری طالب علم فیضان علی نے کہاہے کہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران انکے اہلخانہ کو انکے تحفظ کیلئے انتہائی پریشان ہیں ۔ فیضان نے بتایاکہ وہ ساتویں جماعت سے بورڈنگ اسکول میں زیرتعلیم ہے اور اس دوران اسے کبھی بھی گھروالوں کی اتنی ٹیلی فون کالز موصول نہیں کی جتنی جنگ شروع ہونے کے بعد اس کی خیریت دریافت کرنے کیلئے کی گئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس کے گھر والے روزانہ دس سے زائد بار اسے فون کر کے خیریت دریافت کرتے ہیں ۔

اُدھرجموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام خط میں ایران میں پھنسے سینکڑوں کشمیری طلباء کی جلد واپسی کیلئےفوری اقدامات کرنےپرزوردیاہے۔ایران کی اہواز جندی شا پور یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں تھرڈ ائیر کے طالبعلم معین مشتاق نے بتایا ہے کہ سات طلبہ و چار طالبات جنگ کی وجہ سے یونیورسٹی ہاسٹل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے بتایاکہ وہ بھارتی سفارت خانےسےرابطےمیں ہیں اوراُنہیں جلد ازاجلد وہاں سےنکالنےکا یقین دلایا جارہا ہے ۔ تاہم اُنہیں اس کا یقین نہیں ہے کیونکہ ایران سے پاکستان اور عرب ممالک کے طلباء کو نکال لیا گیا ہے جبکہ بھارتی حکومت اپنے طلبہ کو ایران سے نکالنے میں بری طرح ناکام رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ طالب علم نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ نے ان کی جلد واپسی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے تاہم ابھی تک ان کی واپسی کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں