کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا ادارہ نور حق میں شہر میں پانی کی شدید قلت، کے فور منصوبہ ودیگر عوامی مسائل کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب-مشرق وسطی میں اسرائیلی دہشت گردی کا کھیل جاری ہے۔توسیع پسندانہ عزائم کےساتھ اپنا ہدف ایران کوبنایا ہوا ہے۔گزشتہ4 دن سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی پشت پناہی امریکہ کررہا ہے-اسرائیل نے نہ صرف شہریوں بلکہ سرکاری ٹی وی چینل کوبھی نشانہ بنایاہے۔اسرائیلی دہشت گردی کی مذمت کرتےہیں،اسرائیلی دہشت گردی کو روکنا امت مسلمہ پر فرض ہے۔فلسطین کو نشانہ بنایا گیا، لبنان پر بمباری جاری ہے اور اب ایران کو بھی نشانہ بنایا جارہاہے۔دہشت گردی کے خلاف پوری امت کو متحد ہونا ہوگا۔اسرائیل کا عزم نیل سے فراط تک ہے اور اسی عزائم کے ساتھ وہ آگے بڑھ رہا ہے-
سلامتی کونسل میں امریکہ نےاسرائیل کےخلاف قراردادوں کوویٹو کیا ہے۔اقوام متحدہ کا قیام 1945 میں عمل میں آیا تھا جس کا مقصد جنگوں کا خاتمہ اور مظلوموں کی دادرسی کرنا تھا۔اقوام متحدہ کا کردارصفرجمع صفرنظرآرہا ہے۔مسئلہ جنوبی سوڈان کا ہو تو اقوام متحدہ حرکت کرتی نظر آتی ہے لیکن اگر مسئلہ فلسطین یا مسلم ممالک کا ہو تو اقوام متحدہ سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں کرتا۔کراچی: اوآئی سی عملا مردہ گھوڑے ثابت ہوئے ہیں۔57 اسلامی ممالک کواب بھی ہوش کےناخن لینا چاہیےاوراسرائیلی دہشت گردی کےخلاف مل کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر دفاع کی جانب سے پارلیمنٹ میں اسرائیلی کے خلاف بات کی گئی ہے۔مسئلہ صرف بات کرنے سے نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔34 کھرب روپے کے بجٹ میں کراچی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔بلدیات کے حوالے سے جو بجٹ رکھا جاتا تھا اب اس میں بھی کی گئی ہے۔بلدیات کے لیے صرف 165 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ملک کا سب سے بڑا شہر، ملکی معیشت چلانے والا شہر کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا۔وفاقی حکومت نے کراچی کو نظر انداز کیا ہی تھا سندھ حکومت نے بھی کراچی کو نظر انداز کیا ہے۔کے فور منصوبہ گزشتہ 22 سال سے کاغذوں پر موجود ہیں۔


