شکارپور(ایچ آراین ڈبلیو)15 سالا بلقیس کو دو سال میں بھی قمبر پولیس بازیاب کرانے میں کانام ،پوليس تھانوں، کورٹ کچہری سمیت تمام تر قانونی دروازوں پر مغوی بلقيس کا لاچار باپ معشوق سموں ٹھوکریں کھاتا پھر رہا ہے-
پوليس اسٹیشن وگن کی حدود سے مورخہ 17/6/2023 پر 15 سالا بلقیس کو اغوا کیا گیا، اور لگ بھگ ایک ماہ بعد 10/7/2023 پر ایف آئی آر نمبر71/2023 وگن تھانہ پر درج ہوئی، ابتدائی طور پر وگن پولیس نے کیس کو وومن تھانہ پر ٹرانسفر کر دیا اور اپنی جان چھڑا لی ،
وومن پولیس کی جانب کیس کی تفتیش کا سلسلہ جاری ہوا.
جو ایک شکارپور کے رہائشی ایس ایچ او پر جا رکا جس کے پاس سے مغوی بلقيس کا موبائل فون بھی برآمد ہوا.اور کیس کو وہیں پر روک دیا گیا-کیس کو روکنے کی کیا وجہ تھی؟
کونسی ایسی قوت کی مداخلت ہوئی جو قمبر پولیس نے مزید کارروائی وہیں پر روک دی؟؟اور دو سال پورے ہونے کے قریب ہیں لیکن مغوی بلقيس کا کوئی پتہ نہیں چلا-کیا یہ اس ایس ایچ او کو بچانے کے لیے ہی یہ سب کیا گیا.؟ یا اصل چہروں کے سامنے پولیس ڈپارٹمنٹ بے وس بن گیا..؟
شروعات میں ہی اغوا جیسے سنگین کیس کی ایف آئی آر درج کرنے میں ایک ماہ کی تاخیر کی وجہ کیا تھی-؟اس کیس کو دیکھنے کے بعد پولیس ڈپارٹمنٹ کے لیے کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں-
15 سالا مغوی بلقيس کا باپ مجبور ہو کر سراپا احتجاج بنا ہوا ہے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، ھاء کورٹ سندھ، ھاء کورٹ لاڑکانہ، سميت آئی جی پی سندھ اور ڈی آئی جی لاڑکانہ سے اپیل کی ہے خدارا میری بچی کو ظالموں کے چنگل سے بازیاب کراکر اسکے حوالے کیا جائے-


