کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےشاہراہِ بھٹو کے دوسرے فیز کا افتتاح کردیا-افتتاح سے قبل وزیراعلیٰ سندھ نے انٹرچینج شاہ فیصل تا قائدآباد سفر کر کے شاہراہ بھٹو کا معائنہ کیا-واضح رہے کہ سید مراد علی شاہ نے اپنی گاڑی کا ٹول ٹیکس بھی ادا کیا-جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گاڑی سینئر وزیر شرجیل میمن ڈرائیو کر رہے ہیں-صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ اور سینٹر وقار مہدی بھی وزیراعلیٰ سندھ کی گاڑی میں ساتھ ہیں-
وزیراعلیٰ سندھ نے قائدآباد انٹرچینج پر ڈرائیو کر کے شاہراہ بھٹو کا افتتاح کر دیا-افتتاحی تقریب میں ملیر اور کراچی کے منتخب اراکین، پیپلز پارٹی کارکنان اور لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی-وزیراعلیٰ سندھ کی آمد پر جیئے بھٹو، جیئے بلاول اور جیئے مراد علی شاہ کے نعروں کی گونج-شاہراہِ بھٹو کراچی کی عوام کے لیے پیپلز پارٹی حکومت کا ایک اہم تحفہ ہے-
جدید انفراسٹرکچر ترقی کی ضمانت ہے-چیئرمین بلاول بھٹو نے شاہراہ بھٹو کے فیز ون کا افتتاح 11 جنوری 2025ء کو کیا تھا-آج شاہ فیصل تا قائدآباد، شاہراہِ بھٹو کے دوسرے فیز کا افتتاح کیا ہے-آمد و رفت بہتر ہوگی تو معیشت مضبوط ہوگی-شاہراہ بھٹو صنعتی علاقوں کی ملک بھر تک رسائی میں بہتری لائے گی-ٹرانسپورٹ نظام کی بہتری سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے-
عوام کو سہولت دینا ہی ہماری اصل خدمت ہے-انفراسٹرکچر کے ہر منصوبے کا مقصد عوامی فلاح ہے-ترقی کا سفر سڑکوں سے جُڑا ہے، ہم راستے آسان بنا رہے ہیں-شہری اور صنعتی رابطوں کو تیز اور محفوظ بنانا ہمارا عزم ہے-قائدآباد تا کاٹھوڑ تک شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے کی جلد تکمیل کی جائے-یہ سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سب سے بڑا منصوبہ ہے-
شاہراہ بھٹو منصوبہ 38.661 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے پر مشتمل ہے-وزیراعلیٰ سندھ کو پروجیکٹ ڈائریکٹر کی شاہراہ بھٹو پر بریفنگ بھی دی-شاہراہِ بھٹو 6 رویہ (X3 لینز) پر مشتمل ہے، جبکہ سڑک کی چوڑائی 30.9 میٹر اور ڈیزائن رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی گئی ہے-یہ شاہراہ ڈی ایچ اے اور کورنگی کو حیدرآباد موٹروے (M-9) کے قریب کاٹھور سے جوڑتی ہے-شاہراہِ بھٹو پر 6 انٹرچینجز، 2 مرکزی اور 10 درمیانی ٹول پلازہ شامل ہیں-


