غزہ سٹی(ایچ آراین ڈبلیو)غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 100 سے زائد فلسطینی شہید جبکہ 427 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ مقامی صحت حکام کے مطابق، مسلسل جاری اس جارحیت نے نہ صرف انسانی جانوں کو نشانہ بنایا ہے بلکہ غزہ میں انسانی بحران کو بھی انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 55,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔
ایک انتہائی افسوسناک واقعے میں، کم از کم 42 فلسطینی اس وقت شہید ہوئے جب اسرائیلی فورسز نے ایک بار پھر امدادی مراکز کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ خاص طور پر خان یونس کے ناصر اسپتال کے قریب فضائی حملے کیے گئے، جہاں سینکڑوں فلسطینی امداد کے انتظار میں موجود تھے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ امدادی مراکز کو نشانہ بنانے سے نہ صرف انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں بلکہ یہ اقدام ایک منظم انسانی بحران کو جنم دے رہا ہے۔
ادھر مقبوضہ مغربی کنارے کے جنین پناہ گزین کیمپ میں بھی اسرائیلی بلڈوزروں نے کئی فلسطینی مکانات کو مسمار کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں ایک بڑے انہدامی منصوبے کا حصہ ہیں، جس کے تحت جنوری سے اب تک کیمپ میں سینکڑوں مکانات کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیا جا چکا ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی کے متعدد علاقوں میں ایک بار پھر انخلاء کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جن میں پرانا شہر، الراوضہ اور التفاح کے مشرقی محلے شامل ہیں۔ یہ انتباہات متوقع شدید بمباری سے قبل جاری کیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق غزہ کی ایک بڑی آبادی پہلے ہی بے گھر ہو چکی ہے اور علاقے کا بیشتر حصہ یا تو اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول ہے یا وہاں سے انخلاء کے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔


