کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)تھانہ کلاکوٹ کے علاقوں میں کچھ خودساختہ صحافیوں کی جانب سے بلیک میلنگ، دھونس اور جھوٹی خبروں کے ذریعے شریف شہریوں اور فرض شناس پولیس افسران کو ہراساں کرنے کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ان عناصر کا کسی مستند میڈیا ہاؤس یا رجسٹرڈ صحافتی ادارے سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ صرف ذاتی مفاد، مالی لالچ اور اثر و رسوخ قائم رکھنے کی نیت سے صحافت کا لبادہ اوڑھ کر عوام میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔
مقامی شہریوں نے ایس ایس پی سٹی، ڈی آئی جی ساؤتھ، اور آئی جی سندھ سے اپیل کی ہے کہ ایسے جعلی صحافیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ صحافت جیسے باوقار پیشے کو مزید بدنام ہونے سے بچایا جا سکے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ افراد روزانہ کی بنیاد پر کسی نہ کسی معزز شہری یا ایماندار افسر کے خلاف جھوٹی خبریں بنا کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان خبروں کا کوئی زمینی یا قانونی ثبوت موجود نہیں ہوتا، بلکہ یہ صرف بلیک میلنگ کے ہتھکنڈے ہوتے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ ان جعلی صحافیوں کی شناخت اور فون نمبرز جلد منظرِ عام پر لائے جائیں گے تاکہ عوام کو ان کے چنگل سے بچایا جا سکے اور متعلقہ حکام کارروائی میں آسانی محسوس کریں۔
سماجی حلقوں نے بھی اس مسئلے پر آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے افراد نہ صرف قانون کے لیے چیلنج بن چکے ہیں بلکہ صحافت جیسے مقدس پیشے کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔ عوامی مطالبہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر حرکت میں آئیں اور ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کریں۔


