40

جعلی ڈومیسائل کے اجراءکے خلاف درخواست،ڈپٹی کمشنرعدالت میں پیش

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ میں جعلی ڈومیسائل کے اجراءکے خلاف خواجہ اظہار الحسن کی درخواست-شہر بھر کے ڈپٹی کمشنر عدالت میں پیش ہوگئے-ایڈیشن ایڈوکییٹ جنرل نےڈپٹی کمشنراورصوبائی حکومت کی جانب سےجواب جمع کروانےکےلئےمہلت طلب کرلی-عدالت نے ڈپٹی کمشنر، سندھ حکومت اور دیگر سے جواب طلب کرلیا-

عدالت نے معاونت کے لئے چیئرمین نادرا کو بھی نوٹس جاری کردیا-چیئرمین نادرا عدالتی معاونت کےلئےکسی قابل افسرکومقررکریں-سپریم کورٹ چاہتی ہے کہ نادرا اور متعلقہ افسران کا تحریری جواب آنے کے بعد حکم نامہ جاری کرے-ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا مکینزم تیار کیا جاسکے تاکہ مستقل میں مبینہ جعلی ڈومیسائل کی روک تھام جاسکے-

کیس کی پیروی کرتے ہوئے مجھے نو برس ہوچکے ہیں، چاہتا ہوں مرنے سے پہلے کیس کا فیصلہ ہوجائے-پنجاب، بلوچستان اور کے پی میں ڈومیسائل کا اجرا نادرا سے منسلک ہوچکا ہے-ڈومیسائل کا اجرا کیسے ہوتا ہے، سندھ حکومت کی اپنی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی بھیڑ چال ہے-ڈومیسائل کے اجرا کے لئے کیا ڈپٹی کمشنر کوئی انکوائری کرتے ہیں-

کسی بھی شہری کو ڈومیسائل کے اجرا کا طریقہ کار کیا ہے-کیا تمام ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کسی نیٹورک سے منسلک ہیں-اگر کسی شہری کا کسی دوسرے ضلع سے ڈومیسائل بنا ہوا ہے تو ڈپٹی کمشنر کو کیسے پتہ چلے گا-ڈومیسائل کے اجراء سے قبل انکوائری کا طریقہ کار موجود ہے-یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شہری پرانا ڈومیسائل سرینڈر کروائے بغیر کراچی کے بعد حیدرآباد اور لاڑکانہ کا ڈومیسائل بھی بنوا سکتا ہے-

درخواست گزار کا مدعا یہی ہے کہ صوبے میں جعلی ڈومیسائل بنتے ہیں-ڈومیسائل بنوانے کے لئے شناختی کارڈ، اصل تعلیمی اسناد اور والدین کے شناختی کارڈ پر رہائشی پتے کا جائزہ لیا جاتا ہے-اگر کسی دوسرے ضلع کا ڈومیسائل پہلے بنا ہوتا ہے تو درخواست مسترد کردی جاتی ہے-ایڈوانس ٹیکنالوجی آگئی ہے، اے آئی کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے-ہم چاہتے ہیں کوئی مکینزم بنے، انکوائری کا پروسیجر بنے تاکہ جعلی ڈومیسائل کی روک تھام کی جاسکے-

اپنا تبصرہ بھیجیں