غزہ(ایچ آراین ڈبلیو)شہری دفاع کے مطابق پیر کو امداد کی تقسیم کے دو مراکز پر پہنچنے کی کوشش کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 10 فلسطینی ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مشتبہ افراد کو دیکھ کر ’وارننگ فائر‘ کیا تھا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ساتھ فلسطینی بندوق بردار بھی حملہ کر رہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ ان رپورٹس کی جانچ کر رہی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ اسرائیل حماس کے مخالف قبائلی گروپوں کی حمایت کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جنوبی غزہ میں ایک گروپ کو ہتھیار فراہم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، جسے ملیشیا یا جرائم پیشہ گروپ بھی کہا جا رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد امدادی ٹرکوں کی حفاظت ہے، جبکہ ناقدین اسے الٹا سمجھتے ہیں۔
غزہ سول ڈیفنس اور ریڈ کراس کے مطابق مئی کے آخر سے اب تک امدادی مقامات کے قریب درجنوں فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن نے اسرائیل اور امریکہ کے تعاون سے امدادی کارروائیاں شروع کی تھیں جب اسرائیل نے ناکہ بندی میں جزوی نرمی کی تھی۔


